کٹھوعہ معاملہ: ملزم کے گواہوں کو حفاظت دینے سے سپریم کورٹ کا انکار

سپریم کورٹ آف انڈیا

واقعہ کے اہم ملزمان میں سے ایک وشال جنگوترا کی طرف سے گواہی دینے والے اس کے تین دوستوں نےالزام عائد کیا ہے کہ کشمیر پولس کی کرائم برانچ انہیں پریشان کر ہی ہے۔

سپریم کورٹ نے کٹھوعہ عصمت دری اور قتل معاملہ کے ایک ملزم کے حق میں گواہی دینے والے افراد کو حفاظت فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اس معاملہ کی جانچ کشمیر پولس کی کرائم برانچ ہی کرے گی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس ایم اے کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔

اس واردات کے اہم ملزمان میں سے ایک وشال جنگوترا کے تین دوستوں نے الزام عائد کیا تھا کہ کشمیر پولس کی کرائم برانچ انہیں پریشان کر رہی ہے۔ یہ تینوں جموں کے رہائشی ہیں اور یو پی کے ضلع مظفرنگر کے ایک کالج میں وشال جنگوترا کے ساتھ زیر تعلیم ہیں۔

ساحل شرما، سچن شرما اور نیرج شرما کی طرف سے وکیل روی شرما نے اس معاملہ میں عرضی داخل کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ تینوں گواہوں کو پولس پریشان کر رہی ہے اور ان کے خاندان کے افراد پر دباؤ بنا رہی ہے۔

وکیل نے عدالت سے کہا ’’وشال جنگوترا 7 جنوری سے 10 فروری تک مظفرنگر میں تینوں گواہوں کے ساتھ امتحانات اور پریکٹیکل میں شامل تھا ۔جبکہ پولس ان طلباء کو اس کے مؤکل کےخلاف بیان دینے پر مجبور کر رہی ہے۔ ‘‘

عرضی میں کہا گیا کہ ’’ ریاستی پولس نے 19 سے 31 مارچ کےدرمیان عرضی گزاروں کو جسمانی اور دماغی تکلیف پہنچائی۔

وکیل نے تینوں گواہوں کی حفاظت سی بی آئی کو سونپنے کی بھی بات کہی تھی۔عدالت نے دونوں مطالبات خارج کر دئیے ہیں۔

واضح رہے کہ خانہ بدوش طبقہ کی 8 سالہ بچی کو کٹھوعہ کے ایک گاؤں میں اغوا کر لیا گیا تھا اور ایک ہفتہ بعد بچی کی لاش جنگلات سے برآمد ہوئی تھی۔

جموں و کشمیر کرائم برانچ کی جانچ میں انکشاف ہوا کہ بچی کا اغوا کرنے کے بعد نشیلی دوا کھلا کر ایک ہفتہ تک اس کی عصمت دری کی گئی اور بعد میں اس کا قتل کر دیا گیا۔ اس معاملہ میں ریاستی پولس نے 7 ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی ہے۔ جبکہ ایک نابالغ ملزم کے خلاف کٹھوعہ کی عدالت میں علیحدہ سے چارج شیٹ داخل کی گئی۔ سپریم کورٹ نے 7 مئی کو فیصلہ سنایا تھا کہ اب اس معاملے کی سماعت پٹھان کوٹ عدالت میں ہوگی۔

سب سے زیادہ مقبول