سپریم کورٹ: لکھیم پورکھیری قتل معاملے کی جانچ کی نگرانی پر فیصلہ آج

سپریم کورٹ جمعہ کے روز لکھیم پورکھیری قتل کیس میں جانچ کی نگرانی کی ذمہ داری ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو سونپنے کے معاملے میں فیصلہ کرسکتا ہے

سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ جمعہ کے روز لکھیم پورکھیری قتل کیس میں جانچ کی نگرانی کی ذمہ داری ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو سونپنے کے معاملے میں فیصلہ کر سکتا ہے۔

چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بینچ نے گزشتہ شنوائی کے دوران پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں جسٹس رنجیت سنگھ اور جسٹس راکیش کمار جین کے نام تجویز کئےتھے ۔ بنچ نے دونوں ججوں میں سے کسی ایک سے جانچ کی نگرانی کی تجویز پیش کی تھی ۔

حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے کہا تھا کہ وہ 12 نومبر کو اپنا موقف پیش کریں گے۔ چیف جسٹس کی قیادت والی اس بینچ اب تک کی سماعتوں کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کئی بار سرکار کی سرزنش کر چکی ہے۔


سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت کے دوران بادی النظری میں ایک ملزم کو بچانے کی کوشش کرنے پر کئی سوالات سرکار پر اٹھائے ۔ سرکار کو گواہوں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعہ 164 (سی آر پی سی) کے تحت ان کے بیانات کی قلمبند کرنے میں تیزی لانے کا حکم بینچ نے دیا تھا ۔ عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت کی طرف سے ثبوت اکٹھا کرنے میں مبینہ طور پرسست رویہ اختیار کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا تھا اور دستیاب شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اسے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حکم سرکار کو دیا تھا ۔

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں 3 اکتوبر کو مرکز کے نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے چار کسانوں سمیت آٹھ افراد کی موت ہو گئی تھی۔

اس معاملے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اجئے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا ملزمین میں شامل ہیں۔ پولیس نے آشیش سمیت کئی ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ آشیش کو کلیدی ملزم بتایا جا رہا ہے۔


ایک سال سے احتجاج کرنے والے کسان 3 اکتوبر کومرکزی وزیر مملکت کے آبائی گاؤں میں منعقدہ ایک پروگرام کے لیے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشوپرساد موریہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ الزام ہے کہ لکھیم پور کھیری میں سڑکوں پر احتجاج کر رہے کسانوں کو کار سے کچل دیا گیا ۔ اس کار میں دیگرملزمان کے ساتھ آشیش بھی سوارتھا ۔ کار سے کچلنے سے چار لوگوں کی موت کے بعد بھڑکے تشدد میں چار دیگر لوگ مارے گئے تھے ۔ لوگوں کو کچنے والی گاڑیوں میں مشتعل ہجوم نے آگ لگا دی تھی ۔ اس واقعے میں مرنے والوں میں ایک مقامی صحافی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو کارکن بھی شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔