طلاق ثلاثہ:سائرہ بانو معاملہ تین طلاق قانون کی وجہ بنا 

سپریم کورٹ کے فیصلے سے تین طلاق کے ’’صدیوں پرانے غیر مناسب طریقے” سے ہندوستانی مسلم خواتین کی آزادی کو طاقت ملی۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

یو این آئی

لوک سبھا میں جمعرات کے روز منظور تین طلاق سے متعلق بل کی بنیاد سائرہ بانو معاملے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پڑی، جس میں عدالت عظمی نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد حکومت اس پر تین بار آرڈیننس لائی اور تیسری بار پارلیمنٹ میں بل لایا گیا۔

سپریم کورٹ کا وہ تاریخی فیصلہ 22 اگست 2017 کو آیا تھا۔ بل کے مقاصد اور وجوہات میں کہا گیا ہے کہ سائرہ بانو بنام حکومت اور دیگر نیز اس سے متعلق دیگر مقدمات کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے 22 اگست 2017 کے فیصلے میں طلاق بدعت کے ذریعے مسلم شوہروں کے ذریعے بیویوں کو طلاق دینے کی روایت کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے تین طلاق کے ’’صدیوں پرانے غیر مناسب طریقے" سے ہندوستانی مسلم خواتین کی آزادی کو طاقت ملی۔

حکومت پہلی بار 28 دسمبر 2017 کو مسلم خواتین (شادی کے حق تحفظ) بل، 2017 لوک سبھا میں لے کر آئی۔ یہ بل 28 دسمبر 2017 کو لوک سبھا میں منظور بھی ہو گیا، لیکن راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی مخالفت کے سبب بل پیش نہیں کیا جا سکا۔ اس بل پر اپوزیشن کے کچھ اعتراضات تھے۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ملزم شوہر کی ضمانت کا کوئی التزام نہ ہونا، مفاہمت کا کوئی التزام نہ ہونا اور کسی بھی شخص کو ایف آئی آر درج کرانے کا حق دینا مناسب نہیں ہے۔

حکومت ان تینوں اعتراضات کو دور کرنے کے لئے ترمیم کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے کے لئے 19 ستمبر 2018 کو آرڈیننس لیکر آئی۔ اس نے مجسٹریٹ کے ذریعہ ضمانت کا انتظام کیا۔ متاثرہ کی بات سننے کے بعد مجسٹریٹ کو معقول شرائط پر صلح کرانے کا بھی اختیار دیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ کسی بھی شخص کی بجائے ایف آئی آر درج کرانے کا حق صرف متاثرہ یا اس کے خون کے رشتہ دار یا شادی کے بعد بننے والے رشتہ دار تک محدود کر دیا گیا۔

تینوں ترامیم کے ساتھ نئے فارمیٹ میں مسلمان خواتین (شادی کے حق تحفظ) بل، 2018 کو 17 دسمبر 2018 کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔ یہ بل 27 دسمبر 2018 کو لوک سبھا میں منظور ہو گیا، لیکن ایک بار پھر اسے راجیہ سبھا میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

پارلیمنٹ میں پاس نہ ہونے کے سبب حکومت نے 12 جنوری 2019 کو دوسری بار آرڈیننس جاری کیا۔ پچھلی لوک سبھا کے آخری سیشن میں بھی بل کو راجیہ سبھا میں پیش نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے سیشن ختم ہونے کے بعد 21 فروری 2019 کو تیسری بار آرڈیننس لایا گیا۔

اس کے بعد مئی میں 16 ویں لوک سبھا تحلیل ہو گئی جس سے بل خود ہی خارج ہو گیا۔ نئی لوک سبھا کی تشکیل کے بعد بل کو 21 جون 2019 کو ایوان میں پیش کیا گیا اور 25 جولائی 2019 کو ایوان نے مسلم خواتین (شادی کے حق تحفظ) بل، 2019 پر اپنی مہر ثبت کر دی۔