متنازع زمین رام للا کو اور مسجد کے لئے ایودھیا میں ہی زمین دی جائے، سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے مقدمہ کا تصفیہ کرتے ہوئے متنازعہ اراضی شری رام جنم بھومی نیاس کو سونپنے اور سنی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لئے ایودھیا میں ہی مناسب مقام پر پانچ ایکڑ اراضی دینے کا فیصلہ سنایا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پانچ سو سال سے زائد پرانے ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کا تصفیہ کرتے ہوئے متنازعہ اراضی شری رام جنم بھومی نیاس کو سونپنے اور سنی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لئے ایودھیا میں ہی مناسب مقام پر پانچ ایکڑ اراضی دینے کا فیصلہ سنایا۔

چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متنازعہ اراضی شری رام جنم بھومی نیاس کو دی جائے گی اور سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکٹر اراضی دستیاب کرائے جائے گی۔ گربھ گرہ اور مندر کے احاطے کا باہری حصہ رام جنم بھومی نیاس کو سونپا جائے گا۔

بنچ نے کہا کہ متنازعہ مقام پر رام للا کے جنم کے وافر شواہد ہیں اور ایودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہندوؤں کی آستھا کا معاملہ ہے اور اس پر کوئی تنازع نہیں ہے۔

آئینی بنچ میں جسٹس گوگوئی کے علاوہ جسٹس شرد اروند، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنذیر شامل ہیں۔ بنچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ مرکزی حکومت تین سے چار مہینوں کے دوران مندر کی تعمیر کے لئے ایک نیاس تشکیل دے اور اس کا انتظام اور ضروری تیاریوں کرے۔

عدالت نے شیعہ وقف بورڈ کی مالکانہ حق اور نرموہی اکھاڑے کی عرضی کو خارج کردیا اور واضح کیا کہ مسجد خالی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی تھی اور اس کے نیچے مندر کے باقیات موجود تھے۔ بنچ نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ مندر کو توڑ کر ہی مسجد بنائی گئی تھی۔

فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس معاملے میں صرف آستھا کی بنیاد پر مالکانہ حق کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا لیکن تاریخی شواہد سے اشارے ملتے ہیں کہ ہندو مانتے رہے ہیں کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ایودھیا ہے۔

Published: 9 Nov 2019, 12:04 PM