گھوس خور پنڈت تنازعہ کا باضابطہ اختتام، نئی ایف آئی آر پر سپریم کورٹ کی روک

سپریم کورٹ نے فلم ‘گھوس خور پنڈت’ سے متعلق تمام درخواستوں کا نپٹارا کرتے ہوئے نئی ایف آئی آر اور مزید سماعت پر روک لگا دی۔ فلم سازوں نے عنوان واپس لے کر معافی نامہ داخل کیا۔

<div class="paragraphs"><p>منوج واجپئی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ممبئی: پوسٹر جاری ہونے کے بعد تنازعات میں گھری فلم ‘گھوس خور پنڈت’ کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے کیس کا تصفیہ کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح ہدایت دی ہے کہ اس فلم کے تعلق سے نہ کوئی نئی ایف آئی آر درج کی جائے گی اور نہ ہی اس موضوع پر کسی نئی عرضی پر سماعت ہوگی۔ اس فیصلے کو فلم سازوں کے لیے بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جمعرات کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ اس تنازعہ کو اب مزید طول دینے کی ضرورت نہیں ہے اور معاملے کو یہیں ختم سمجھا جائے۔ عدالت نے یہ بھی دو ٹوک انداز میں کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر کسی طبقے یا برادری کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاہم موجودہ معاملے میں فلم سازوں کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواستوں کا تصفیہ کیا جا رہا ہے۔


فلم سازوں اور پروڈکشن ہاؤس نے عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کیا، جس میں کہا گیا کہ ان کا کسی بھی مذہب، ذات، برادری یا طبقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ حلف نامے میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ فلم ایک خیالی پولیس ڈرامہ ہے، جو ایک مجرمانہ معاملے کی تفتیش پر مبنی ہے اور اس میں کسی مخصوص مذہب یا برادری کو بدعنوان یا منفی انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ فلم کا متنازع عنوان ’گھوس خور پنڈت‘ واپس لے لیا گیا ہے اور نئے نام پر غور جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام پروموشنل مواد، پوسٹر اور ٹریلر بھی ہٹا لیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا اشتعال کو روکا جا سکے۔ فلم سازوں نے یقین دلایا کہ مستقبل میں ایسے معاملات میں زیادہ احتیاط برتی جائے گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فلم سازوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی تھی اور کہا تھا کہ آزادیٔ اظہار کی آڑ میں کسی مخصوص طبقے کو نیچا دکھانا قابلِ قبول نہیں ہے۔ عدالت کے ریمارکس کے بعد ہی فلم سے متعلق تشہیری مواد فوری طور پر واپس لے لیا گیا تھا۔

اداکار منوج باجپئی، جو اس فلم سے منسلک ہیں، نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے وضاحت پیش کی تھی کہ ان کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا تھا، نہ کہ کسی کی دل آزاری۔ انہوں نے عوام سے معذرت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ فلم کا عنوان تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد اب اس تنازع پر باضابطہ طور پر پردہ ڈال دیا گیا ہے، جبکہ فلم کے نئے نام کے اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔