مغربی بنگال حکومت اور الیکشن کمیشن کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ کو دی ہدایت
سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ ایس آئی آر میں دعوؤں اور اعتراضات کا فیصلہ کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ جج اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے رینک کے غیر داغدار عدالتی افسر کو مقرر کرے۔

مغربی بنگال حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان اعتماد کی کمی کے بارے میں، سپریم کورٹ نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کے لیے عدالتی افسر کی تقرری کی ہدایت دی۔ عدالت نے کلکتہ ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ ایس آئی آر میں دعووں اور اعتراضات کا فیصلہ کرنے کے لیے عدالتی افسران کو مقرر کرے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ان افسر کو غیر داغدار ہونا چاہئے اور وہ ڈسٹرکٹ جج اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے عہدے کے ہوں۔
کل یعنی 20 فروری کو، مغربی بنگال حکومت اور الیکشن کمیشن نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی کی بنچ کے سامنے اپنے اپنے دلائل رکھے ۔ بنگال حکومت کے وکیل شیام دیوان نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن نے اب ایک نئے قسم کے افسر کا تقرر کیا ہے۔ انہیں سپیشل رول آفیسرز کہا جاتا ہے، اور یہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
شیام دیوان کی دلیل پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ ہمیں عدالتی افسران یا دوسرے کیڈر سے آئی اے ایس افسران کی تقرری کرنی پڑے گی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اچھے ریکارڈ کے ساتھ عدالتی افسران کی تقرری کے لیے کہا جائے گا۔"
الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ ڈی ایم نائیڈو نے عدالت کو بتایا کہ مغربی بنگال حکومت نے کمیشن کو اہل افسران فراہم نہیں کیے ہیں۔ سی جے آئی نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا، "ہم ریاستی حکومت سے تعاون پر مبنی رویہ کی توقع کر رہے تھے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔