ایودھیا میں ملنے والی 5 ایکڑ زمین سے متعلق سنی وقف بورڈ لے گا قانونی مشورہ!

بابری مسجد-رام جنم بھومی اراضی تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملنے والی 5 ایکڑ زمین کا کیا کیا جائے، اس سلسلے میں سنی وقف بورڈ قانونی صلاح و مشورہ لے گا۔ مشورہ کے بعد ہی وہ آگے کوئی فیصلہ لے گا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ایودھیا معاملہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر ملی زمین پر آگے کیا کرنا ہے، اس سلسلے میں سنی وقف بورڈ پہلے قانونی مشورہ لے گا اور اس کے بعد کوئی قدم آگے بڑھائے گا۔ اس بارے میں سنی وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر فاروقی نے بتایا کہ ’’ابھی بورڈ نے زمین کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہ مسئلہ 26 نومبر کو ہونے والی بورڈ میٹنگ میں رکھا جائے گا۔ سبھی اراکین کی رائے آنے کے بعد اتفاق رائے سے فیصلہ لیا جائے گا۔ پورے معاملے میں قانونی مشورہ بھی لیا جائے گا۔ اس کے بعد آگے کی کارروائی ہوگی۔‘‘

ظفر فاروقی نے بتایا کہ اس زمین پر مسجد بنانے کے ساتھ ہی ویلفیئر کے کیا کیا کام ہو سکتے ہیں، اس پر فیصلہ قانونی رائے آنے کے بعد لیا جائے گا۔ حالانکہ رام مندر تنازعہ پر فیصلہ آنے کے بعد سنی وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر فاروقی نے کہا ہے کہ بورڈ ایودھیا تنازعہ پر آئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی عرضی داخل نہیں کرے گا۔

غور طلب ہے کہ سنی وقف بورڈ کو ملنے والی پانچ ایکڑ زمین کو لے کر مسلم طبقہ کے لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی ہے۔ نغمہ نگار جاوید اختر نے وہاں چیریٹیبل اسپتال کھولنے کی بات کہی ہے جب کہ اسکرپٹ رائٹر سلیم خان نے وہاں بڑا اسکول اور اسپتال کھولنے کی وکالت کی ہے۔ کچھ مسلم مذہبی پیشواؤں نے وہاں اسلامی یونیورسٹی کھولنے کی خواہش ظاہر کی۔

بہر حال، الگ الگ لوگوں کی اس زمین سے متعلق الگ الگ رائے ہے لیکن سنی وقف بورڈ نے واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ وہ قانونی مشورہ کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائے گا۔ اس سلسلے میں بورڈ کی آئندہ 26 نومبر کو ایک انتہائی اہم میٹنگ ہے۔ اس میٹنگ میں ایودھیا معاملہ اور 5 ایکڑ زمین سے متعلق بات پر گہرائی سے غور و خوض ہوگا۔