ہمایوں کے مقبرے سے متصل ’سندر نرسری‘، سیاحوں کی توجہ کا مرکز

دہلی کی بھاگتی دوڑتی اور مصرف زندگی میں سکون کے کچھ لمحات تلاش کرنے کے لئے لوگ سندر نرسری کا رُخ کرتے ہیں، 90 ایکڑ میں پھیلی اس نرسری میں درختوں اور پودوں کی تین سو سے زائد قسمیں موجود ہیں۔

تصویر محمد تسلیم
تصویر محمد تسلیم

محمد تسلیم

نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی میں سیروتفریح کے لئے مختلف مقامات موجود ہیں جن میں لال قلعہ، جامع مسجد، قطب مینار، ہمایوں کا مقبرہ، پرانا قلعہ کافی مشہور ہیں۔ یوں تو ملک اور بیرون سے پہنچنے والے سیاح یہاں کی تاریخی عمارتوں کا دیدار کرنے آتے ہیں لیکن نظام الدین اور ہمایوں کے مقبرہ سے متصل سندر نرسری بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

دہلی کی بھاگتی دوڑتی اور مصرف زندگی میں سکون کے کچھ لمحات تلاش کرنے کے لئے لوگ اس مقام کا رُخ کرتے ہیں۔ یہ نرسری 90 ایکڑ تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں مغلیہ دور کی تاریخی عمارتوں کے سایہ میں درختوں اور پودوں کی تین سو سے زائد قسم موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سنگ مرمر کے فوارے، دلکش باغیچے اور چرند و پرند کی 40 سے زائد نسلیں بھی یہاں موجود ہیں جو اس مقام کو مزید خوبصورت بنا دیتے ہیں۔ اس خوبصورت نرسری میں موجود تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری آثار قدیمہ کے ہاتھ میں ہے۔

ہمایوں کے مقبرے سے متصل ’سندر نرسری‘، سیاحوں کی توجہ کا مرکز

سندر نرسری کے معمار ایم شاہر تھے اور اس کا افتتاح نائب صدر جمہوریہ ہند وینکیا نائیڈو کے ہاتھوں فروری 2018 کو عمل میں آیا تھا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 11 ماہ کی مدت میں تقریباً ساڈھے تین لاکھ سے زائد سیاح یہاں کا دیدار کر چکے ہیں، سیاحوں کی تعداد میں ہر روز مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

سال 2007 میں مرکزی شعبہ تعمیر نو سے معاہدہ کے بعد آغا خان ثقافتی ٹرسٹ نرسری و نرسری میں موجود تاریخی عمارتوں کے ریسٹوریشن (از سر نو محفوظ کرنا) کا کام کررہا ہے۔ نو وارثہ سندر نرسری قدرتی مناظر اور ثقافتی ورثہ کو یکجا کرتی ہے۔

ہمایوں کے مقبرے سے متصل ’سندر نرسری‘، سیاحوں کی توجہ کا مرکز

نرسری میں اپنی شریک حیات کے ساتھ آئے محمد مدسر نے بتایا کہ ’’آپ دہلی کی بھیڑ بھاڑ والی زندگی میں کچھ سکون بھرے لمحے گزارنا چاہتے ہیں تو سندر نرسری آنا چاہئے۔ یہاں درختوں کے آغوش میں، چرند پرند کی آوازوں کے درمیان قدرت کا لطف اٹھا سکت ےہیں۔ لوگ اس طرح کا سکون حاصل کرنے کے لیے دہلی سے باہر مثلاً منالی،نینی تال وغیرہ جاتے ہیں دراصل وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ دہلی بھی ایسی پر سکون جگہ موجود ہے۔‘‘

سہیلیوں کے ساتھ گھومنے آئیں پونم نے بتایا ’’یہاں آکر مجھے کتنے اچھا لگتا ہے میں کیا بتاؤں۔ ایک طرف جہاں اس نرسری میں بہت اچھے باغات موجود ہیں، تو دوسری طرف یہ جگہ تاریخی اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے۔ طلبا کو تو خاص طور سے یہاں آنا چاہئے۔ اور میں جب بھی یہاں آتی ہوں تو فوٹو گرافی کا میرا شوق بھی پورا ہو جاتا ہے۔

ہمایوں کے مقبرے سے متصل ’سندر نرسری‘، سیاحوں کی توجہ کا مرکز

اپنے دوست کے ساتھ آئے محمد طارق نے بتایا کہ ’’یہ نرسری سبز و شاداب ہے۔ تاریخی عمارتوں کے ساتھ جب بھی میں ان باغات کو دیکھتا ہوں تو مغلیہ دور میرے سامنے آ جاتا ہے کیونکہ اس وقت بھی اسی طرح کے باغیچے اور طالاب رہے ہونگے گے۔‘‘

نرسری میں درختوں پر رسی کی مدد سے جھولا بھی لٹکایا گیا ہے جس پر جھولنے والے سیاح یوں محسوس کرتے ہیں گویا وہ کسی گاؤں کے باغ میں پہنچ گئے ہیں۔ اس نرسری خاص بات یہ ہے کہ گھروں میں گارڈننگ کرنے کے شوقین یہاں سے مناسب قیمت پر پودے خرید کر اپنے گھر لے جا سکتے ہیں۔

نرسری پیر تا ہفتہ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک سیاحوں کے لئے کھلی رہتی ہے جبکہ اتوار کے روز اور سرکاری چھٹی والے دن یہ بند رہتی ہے۔

ہمایوں کے مقبرے سے متصل ’سندر نرسری‘، سیاحوں کی توجہ کا مرکز