پٹنہ میں نئے یو جی سی بل کے خلاف طلبہ کا احتجاج، یکم فروری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

پٹنہ میں طلبہ نے نئے یو جی سی بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے طلبہ اور اعلیٰ ذات مخالف قرار دیا۔ مظاہرین نے بل کی واپسی کا مطالبہ کیا اور یکم فروری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا

<div class="paragraphs"><p>پٹنہ میں یو جی سی بل کے خلاف احتجاج / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں نئے یو جی سی بل کے خلاف طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور خبردار کیا کہ اگر مجوزہ بل واپس نہ لیا گیا تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔ مظاہرین نے یکم فروری کو ملک گیر ہڑتال کا بھی اعلان کیا۔ بدھ کے روز یہ صورت حال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب سینکڑوں طلبہ نے شہر کے اہم ٹریفک چوراہے دنکر گولمبر پر جمع ہو کر احتجاج شروع کیا۔ اس مظاہرے کا اہتمام آل بہار اسٹوڈنٹس یونین اور سورن ایکتا منچ کے بینر تلے کیا گیا، جہاں مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور سڑک پر مواد نذرِ آتش کیا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے آمد و رفت متاثر رہی۔

احتجاج کی قیادت کر رہے طلبہ رہنما وشال کمار نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ یو جی سی بل اعلیٰ ذات کے طلبہ کے مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی ایجنڈوں کی آڑ میں ایک مخصوص طبقے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وشال کمار کے مطابق ملک میں یکجہتی، سالمیت اور برابری کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن عملی سیاست میں اعلیٰ ذات کے لوگ خود کو مسلسل بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ جب انتخابات میں ان کے ووٹ لیے جاتے ہیں تو پھر ایسا قانون کیوں لایا جا رہا ہے جو انہیں نقصان پہنچاتا ہے۔


ایک اور طلبہ رہنما سوریہ دیو کمار نے اس بل کو طلبہ مخالف اور اعلیٰ ذات مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یونیورسٹیوں کا تعلیمی ماحول متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون طلبہ کو دو طبقات میں بانٹنے کی کوشش ہے، جس سے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف ذات پات کی بنیاد پر سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ایک خاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

طالب علم سروج کمار نے بھی یو جی سی اور حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خاص طور پر اعلیٰ ذات کے طلبہ کو ہدف بنانے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور اگر کسی پر الزامات عائد ہوں تو ان کے لیے غیر جانبدار جانچ کا نظام قائم کیا جائے۔ ایک اور مظاہرہ کرنے والے راکیش کمار نے کہا کہ ماضی کے بعض قوانین کے غلط استعمال سے پہلے ہی ایک طبقہ متاثر ہو چکا ہے اور اب ایک نیا قانون لایا جا رہا ہے، جس کا بوجھ بھی اسی پر ڈالا جائے گا۔


مظاہرین نے واضح کیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں تحریک کو ریاستی سطح سے آگے بڑھایا جائے گا۔ احتجاج کے دوران پولیس کی موجودگی میں حالات پر قابو پا لیا گیا، جبکہ انتظامیہ نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ قانون و نظم کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔