سخت قوانین لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے لائے جا رہے ہیں: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’’سری نگر کے گوشہ وکنار میں سیکورٹی بنکر لگانے کے بعد اب سی آر پی ایف کو کمیونٹی ہالوں میں دھکیلا گیا ہے جو یہاں کے لوگوں کی واحد پرائیویٹ جگہ ہے۔‘‘

محبوبہ مفتی، تصویر یو این آئی
محبوبہ مفتی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے روز سخت سے سخت قوانین لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر میں جگہ جگہ سیکورٹی بنکر لگانے کے بعد اب سیکورٹی فورسز کو کمیونٹی ہالوں میں دھکیل دیا گیا ہے۔ موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز اپنے ایک ٹوئٹ میں کیا۔ انہوں نے یہ ٹوئٹ سری نگر میں کئی کمیونٹی ہالوں میں سی آر پی ایف اہلکار ڈیرہ زن ہونے کے رد عمل میں کیا۔

محبوبہ مفتی کا اپنے ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ’سری نگر کے گوشہ وکنار میں سیکورٹی بنکر لگانے کے بعد اب سی آر پی ایف کو کمیونٹی ہالوں میں دھکیلا گیا ہے جو یہاں کے لوگوں کی واحد پرائیویٹ جگہ ہے‘۔ ان کا ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’ہر روز کالے قوانین لائے جا رہے ہیں جس کا واحد مقصد لوگوں کو خاموش کرنا ہے‘۔


قابل ذکر ہے کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے میئر جنید عظیم متو نے گزشتہ روز کہا کہ سری نگر میں کمیونٹی ہالز سی آر پی ایف کو دینے کے متعلق کارپویشن کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر میں تعینات سی آر پی ایف اہلکاروں کو بہتر رہائشی سہولیات میسر ہونی چاہئے، لیکن کمیونٹی ہالز کو عوام کی سہولیات کے لئے ہی مخصوص رکھا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے اور میں نے اس سلسلے میں صوبائی کشمنر کشمیر پی کے پولے کے ساتھ بات کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔