گوا کی گائے ’گوشت خور‘ ہو گئی! وزیر کا دعویٰ

گوا کے فضلہ کے انتظام کے وزیر مائیکل لوبو نے دعوی کیا ہے کہ ریاست کے ساحلی خطے میں آوارہ مویشی ’گوشت خور‘ بن گئے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

پنجی: گوا کے فضلہ کے انتظام کے وزیر مائیکل لوبو نے دعوی کیا ہے کہ ریاست کے ساحلی خطے میں آوارہ مویشی ’گوشت خور‘ بن گئے ہیں اور ایسے مویشیوں کو جانوروں کے لئے بنائے گئے خصوصی باڑے میں منتقل کیا جارہا ہے۔ جنوروں کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیم کے ٹرسٹی نے بھی اس غیر معمولی رجحان کی تصدیق کی ہے۔

شمالی گوا کے مایم میں مقیم ’گومانتک گوسیوک مہاسنگ‘ کے ٹرسٹی کمل کانت تاری نے میڈیا کو بتایا کہ کیلنگوت گاؤں میں آوارہ مویشیوں کی آنتوں میں چکن اور مٹن کی ہڈیاں پائی گئی تھیں۔ اسے باڑے میں لایا گیا، جہاں جانوروں کے معالجین نے ان کا علاج کیا۔

تاری نے کہا ، ’’دیسی مویشی چکن اور مٹن اپنی مرضی سے قبول نہیں کرتے۔ وہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں وہ ہی کھا لیتے ہیں۔ کالنگوٹ کے علاقے میں بڑے ہوٹل اور دوسرے ریستوران اپنے یہاں کا بچا ہوا کھانا دال، چاول، چکن اور مٹن کی ہڈہیاں ایک ساتھ ملا کر پھینک دیتے ہیں، جسے مویشی کھاتے ہیں۔‘‘

تاری نے مزید کہا ، ’’جانوروں کو کہاں معلوم ہے کہ وہ کیا کھا رہا ہیں! وہ ساحلی ریستوراں اور کالنگیوٹ کینڈولیم ساحل سمندر کے علاقے میں ملائے ہوئے ترک شدہ کھانے پر منحصر ہیں اور بعد میں وہ انہیں کھانے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ علاج کے دوران مویشیوں کے نظام ہاضمہ میں ہڈیاں پائی گئی ہیں۔‘‘

انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ جب مقامی (دیسی) دیوی مویشی گھاس کھاتے ہیں، جبکہ غیر ملکی نسلیں جیسے جرسی اور ہولسٹین گائوں کو چارے کے ساتھ گوشت کھلایا جاتا ہے۔

Published: 23 Oct 2019, 8:30 AM