’کھانا پینا اور پٹرول کا استعمال بند کر دیں، مہنگائی کم ہو جائے گی!‘ بی جے پی کے سابق وزیر کا بےتکا بیان

برج موہن نے کہا، جنہیں مہنگائی آفت لگ رہی ہے وہ کھانا پینا چھوڑ دیں اور پٹرول کا استعمال بند کر دیں، مہنگائی اپنے آپ کم ہو جائے گی، اس پر کانگریس نے کہا ’یہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے‘

تصویر بشکریہ اے بی پی
تصویر بشکریہ اے بی پی
user

قومی آوازبیورو

رائے پور: ملک ایک طرف جہاں کورونا وبا کے بحران سے دو چار ہے وہیں مہنگائی کی مار بھی برداشت کر رہا ہے۔ ایندھن قیمتوں میں ہر روز اضافہ اور لاک ڈاؤن کے دوران مہنگے پھل اور سبزیوں سے پریشان عوام کو راحت کی کوئی امید نظر نہیں آتی اور بی جے پی لیڈران ایسے وقت میں بھی غیرذمہ دارانہ بیانات دے رہے ہیں۔ چھتیس گڑھ حکومت میں تین مرتبہ وزیر رہے بی جے پی کے رکن اسمبلی برج موہن اگروال نے مہنگائی کے حوالہ سے ایسا ہی بے تکا بیان دیا ہے۔ برج موہن نے کہا کہ جنہیں مہنگائی آفت لگ رہی ہے وہ کھانا پینا چھوڑ دیں اور پٹرول کا استعمال بھی بند کر دیں!

برج موہن نے اتنے پر ہی بس نہیں کیا بلکہ مزید کہا کہ اگر کانگریس سے وابستہ افراد اور کانگریس کو ووٹ دینے والے لوگ ایسا کریں گے تو مہنگائی کم ہو جائے گی۔ برج موہن کے اس بیان پر ریاستی کانگریس کے ترجمان سشیل آنند شکلا نے ٹئوٹ کر کے کہا، ’’دیکھیں بی جے پی رکن اسمبلی کی بے شرمی بھری صلاح! عوام کھانا پینا بند کر یدں، پٹرول ڈیزل کا استعمال بند کر دیں تو مہنگائی کم ہو جائے گی!‘‘


سشیل آنند نےھ کہا، ’’برج موہن اگروال کا بیان بے شرمی کی انتہا ہے۔ ان کی اور مرکزی حکومت کی منافع خوری والی پالیسی کی وجہ سے لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھنے کی نوبت آ چکی ہے۔ مہنگائی کے بے تحاشہ اضافہ کے سبب ملک کا متوسط اور غریب طبقہ پریشان ہے۔ برج موہن جیسے لوگوں کا اس طرح کے بیان دینا ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔‘‘

قبل ازیں، کانگریس کے ریاستی صدر موہن مرکام نے نریندر مودی حکومت کے 7 سال پورے ہونے پر نشانہ لگایا تھا۔ موہن مرکام نے کہا تھا، ’’گزشتہ 7 سالوں میں مہنگائی دوگنے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ ایک قومی آفت ہے۔ کورونا کی وجہ سے لوگوں کی آمدنی متاثر ہو گئی ہے اور اس سے ان کی دقتیں بڑھ رہی ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 04 Jun 2021, 8:41 AM