ابھیشیک بنرجی کے آمتلا پارٹی دفتر کے خلاف کارروائی پر روک میں 21 اگست تک توسیع، 18 اگست کو ہائی کورٹ میں سماعت
کلکتہ ہائی کورٹ نے ڈائمنڈ ہاربر سے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے آمتلا واقع پارٹی دفتر کو منہدم کرنے کی کارروائی پر لگی عبوری روک کو 21 اگست تک بڑھا دیا ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قومی جنرل سکریٹری اور ڈائمنڈ ہاربر سے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے آمتلا واقع پارٹی دفتر کو منہدم کرنے کی کارروائی پر لگی عبوری روک کو 21 اگست تک بڑھا دیا ہے۔ معاملے کی سماعت جسٹس شبھرا گھوش کی سنگل بنچ کے سامنے ہوئی۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق سماعت کے دوران ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل سرجیت ناتھ مترا نے عدالت سے اضافی وقت کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد عدالت نے معاملے کی آئندہ سماعت 18 اگست کو دوپہر 2 بجے مقرر کرتے ہوئے عبوری حکم کو 21 اگست تک جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
عدالت کے حکم کے باعث 21 اگست تک ابھیشیک بنرجی کے پارٹی دفتر کو منہدم کرنے سے متعلق کوئی کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔ اس درمیان ابھیشیک بنرجی کو کلکتہ ہائی کورٹ سے ایک دیگر معاملہ میں جھٹکا بھی لگا ہے۔ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے انہیں آنکھوں کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور ان کی عرضی خارج کر دی۔
جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ گزشتہ سماعت میں انہوں نے ابھیشیک بنرجی کو پہلے کولکاتہ کے سرکاری ایس ایس کے ایم میڈیکل کالج و اسپتال کے ماہر ڈاکٹروں سے مشورہ لینے کو کہا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ اسپتال کی رپورٹ کی بنیاد پر آگے کا فیصلہ لیا جائے گا۔ حالانکہ بنرجی کی جانب سے پیش سینئر وکیل ریبیکا میمن جان نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل ایس ایس کے ایم اسپتال نہیں جانا چاہتے۔ اس کے بعد عدالت نے بیرون ملک جا کر علاج کرانے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے مکمل عرضی ہی خارج کر دی۔
قابل ذکر ہے کہ 20 جولائی کی سماعت میں ہائی کورٹ کے ذریعہ ایس ایس کے ایم اسپتال جانے کا مشورہ دیے جانے کے بعد ابھیشیک بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ حالانکہ سپریم کورٹ کی بنچ نے معاملے کو واپس کلکتہ ہائی کورٹ بھیجتے ہوئے 7 دنوں کے اندر فیصلہ لینے کی ہدایت دی تھی۔ اسی ہدایت کے تحت آج معاملے کی سماعت ہوئی جس کے بعد ہائی کورٹ نے بیرون ملک سفر کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
