ابھیشیک بنرجی کو کلکتہ ہائی کورٹ سے جھٹکا، بیرونِ ملک علاج کی اجازت کی درخواست مسترد
کلکتہ ہائی کورٹ نے ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کی آنکھوں کے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت کی جانب سے ملک میں طبی معائنہ کرانے کی ہدایت پر وہ آمادہ نہیں ہوئے تھے

کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے آنکھوں کے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت سے متعلق ان کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس وقت سنایا جب بنرجی نے عدالت کی ہدایت کے مطابق سرکاری میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا۔
بدھ کو جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی عدالت میں اس معاملے کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ابتدائی طور پر تجویز دی کہ ابھیشیک بنرجی کی آنکھوں کی حالت کا معائنہ سرکاری ایس ایس کے ایم اسپتال کے میڈیکل بورڈ سے کرایا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کا مناسب علاج ہندوستان میں ممکن ہے یا انہیں بیرونِ ملک جانے کی واقعی ضرورت ہے۔
عدالت نے میڈیکل بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ 7 اگست تک اپنی رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ بنرجی کو علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ علاج کے لیے بیرونِ ملک سفر کی درخواست پر غور کرتے وقت اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ابھیشیک بنرجی کے خلاف متعدد فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور ان کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس لیے تمام قانونی اور طبی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
سماعت کے دوران ابھیشیک بنرجی نے میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ اس کے بعد عدالت نے ان کی درخواست خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے یہ واضح کیے جانے کے بعد کہ وہ عدالت کی ہدایت کے مطابق میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، اس معاملے کو مزید زیرِ التوا رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی، لہٰذا موجودہ عرضی مسترد کی جاتی ہے۔
خیال رہے کہ ابھیشیک بنرجی کے خلاف درج 16 ایف آئی آر اور تمام مقدمات میں یکساں قانونی تحفظ (بلینکٹ پروٹیکشن) کی درخواست پر مشتمل مرکزی مقدمے کی آئندہ سماعت 7 اگست کو ہوگی۔
یہ تمام مقدمات مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابی اور ریاست میں حکومت قائم ہونے کے بعد درج کیے گئے تھے۔ انہی مقدمات کے تناظر میں ابھیشیک بنرجی نے عدالت سے بیرونِ ملک جا کر علاج کرانے کی اجازت طلب کی تھی۔
ان کے خلاف درج مقدمات میں انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز بیانات دینے جیسے الزامات بھی شامل ہیں۔ بنرجی نے ان مقدمات کو کالعدم قرار دینے کے لیے مختلف عرضیاں دائر کر رکھی ہیں، جن میں سے بعض میں انہیں عبوری راحت بھی حاصل ہو چکی ہے۔ تاہم تازہ فیصلے کے بعد بیرونِ ملک علاج کی اجازت حاصل کرنے کی ان کی کوششوں کو فی الحال ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
