ٹی ایم سی دفتر پر نہیں چلے گا بلڈوزر، ابھیشیک بنرجی کو کلکتہ ہائی کورٹ سے بڑی راحت
کلکتہ ہائی کورٹ نےٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے پارٹی دفتر کو منہدم کرنے پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگلے حکم تک کوئی مزید کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے آمتلا پارٹی آفس کو منہدم کرنے پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگلے حکم تک کوئی مزید کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ یہ حکم کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس راجہ بسو چودھری نے جاری کیا۔ ابھشیک بنرجی نے ہفتے کے روز آمتلا پارٹی آفس بلڈوزر معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد ان کے وکیل نے اتوار کو چھٹی کے دن اس معاملے پر فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔
پہلے سماعت آج دوپہر 12 بجے شروع ہونی تھی، لیکن سرکاری وکیل کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے سماعت وقت پر نہ ہو سکی۔ بعد میں دوپہر 1:30 بجے جسٹس راجہ بسو چودھری کے کورٹ روم میں سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔ اس کے بعد عدالت نے ابھیشیک بنرجی کے آفس کو منہدم کرنے پر کچھ وقت کے لیے روک لگا دی۔ دوسری جانب بار بار یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ آمتلا میں ابھشیک بنرجی کا پارٹی آفس غیر قانونی طریقے سے بنایا گیا ہے۔
ریاست میں اقتدار کی تبدیلی سے قبل سشانت منڈل نامی شخص نے ڈسٹرکٹ کونسل میں شکایت کی تھی۔ الزام ہے کہ یہ 5 منزلہ عمارت بغیر کسی منظور شدہ نقشے کے بنائی گئی تھی۔ ان کی شکایت کی بنیاد پر 30 جون کو جنوبی 24 پرگنہ ایڈمنسٹریشن نے ابھیشیک بنرجی کے والد اور ’لیپس اینڈ باؤنڈز‘ کے ڈائریکٹر امت بنرجی کو نوٹس بھیجا۔ یہ پراپرٹی بھی ’لیپس اینڈ باؤنڈز‘ کے نام پر ہے۔ سشانت منڈل اور مطیع الرحمٰن ملک کو بھی نوٹس بھیجا گیا تھا۔ تمام شکایت کنندگان اور ملزم فریق کو 15 جولائی کو دوپہر 2 بجے پیش ہونے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن نوٹس میں بتائے گئے طریقے کے مطابق امت بنرجی پیش نہیں ہوئے۔
اس کے بعد ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی طرف سے امت بنرجی کو ایک اور نوٹس دیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ آفس کو منہدم کیا جائے گا۔ اسی طرح ہفتے کی صبح سے ابھیشیک بنرجی کے 5 منزلہ دفتر کو بلڈوزر سے گرانے کا کام شروع ہو گیا۔ پھاؤڑے سے ڈیجیٹل لاکر کو توڑا گیا۔ اتوار کی صبح، بلڈوزر پھر سے ابھیشیک کے دفتر پہنچا۔ ایک ایک کر کے چارپائی، تکیے اور امدادی سامان باہر نکالے گئے۔
ہفتے کو آفس میں توڑ پھوڑ کے بعد ابھیشیک بنرجی کے وکیل نے اتوار کو فوری سماعت کی درخواست کی۔ یہ کیس ’لیپس اینڈ باؤنڈز‘ کی طرف سے دائر کیا گیا تھا۔ جسٹس راجہ بسو چودھری کی عدالت میں سماعت دوپہر 12 بجے طے تھی، لیکن سماعت وقت پر شروع نہیں ہو سکی، کیونکہ ریاست کی طرف سے کوئی وکیل شروع میں موجود نہیں تھا، اس لیے سماعت شروع نہیں ہو سکی۔
جسٹس راجہ بسو چودھری نے کہا کہ ریاست کو ایک اور نوٹس جاری کیا جانا چاہیے۔ اس سے پہلے کیس کی سماعت کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ نوٹس کچھ دیر پہلے ہی دیا گیا تھا۔ ایسے میں، ریاست کو کیس کی کاپی دوبارہ دی جانی چاہیے۔ ریاست کے بیان کے بغیر سماعت ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد، ریاست کے وکیل نیلاجن بھٹاچاریہ ورچوئلی پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کیس پر بحث کرنے کے لیے وقت دیا جانا چاہیے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو معاملے کی معلومات دینی ہوگی۔ جج نے کہا کہ عدالت دوپہر 1:30 بجے دوبارہ بیٹھے گی۔ اس وقت سماعت ہوگی۔ اس کے بعد سماعت میں ابھیشیک بنرجی کے دفتر کو منہدم کرنے پر روک لگا دی گئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
