پی ایم کوشل وِکاس یوجنا: خرچ 3900 کروڑ رُوپے، ٹریننگ 37 لاکھ کو اور ملازمت محض 10 لاکھ
سال 2015 میں ’پی ایم کے وی وائی‘ کی شروعات کرتے ہوئے مودی حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس کے تحت 2020 تک ایک کروڑ نوجوانوں کو ٹریننگ دی جائے گی، لیکن اب تک صرف 37 لاکھ کو ہی ٹریننگ ملی۔
ہر سال دو کروڑ لوگوں کو روزگار دینے کے وعدے کے ساتھ برسراقتدار آئی مودی حکومت نے بڑے زور و شور سے ’پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا‘ کی شروعات کی تھی، لیکن دیگر منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی جملہ ثابت ہوا۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ چار سال کے دوران ایک کروڑ لوگوں کو ٹریننگ دی جائے گی۔ لیکن اپنے دور کے آخری بجٹ سیشن میں حکومت نے مانا کہ صرف 37 لاکھ لوگوں کو ٹریننگ دی گئی اور ان میں سے بھی صرف 10 لاکھ لوگوں کو ملازمت ملی۔
حالانکہ یہ اعداد و شمار کتنے صحیح ہیں، اس پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ پی ایم کے وی وائی کی شروعات جولائی 2015 میں ہوئی۔ اس کے تحت 2020 تک ایک کروڑ نوجوانوں کو ٹریننگ دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ حکومت نے اس منصوبہ کے لیے عالمی بینک سے 25 کروڑ ڈالر کی مدد مانگی۔ عالمی بینک نے منصوبہ کے مقصد کو دیکھتے ہوئے یہ مدد جاری بھی کر دی۔
اسی سال 13 فروری کو حکومت نے پارلیمنٹ میں جانکاری دی کہ اس منصوبہ کے تحت مرکز کی جانب سے 24 جنوری 2019 تک 3897.57 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے تھے۔ ان میں سے 759.93 کروڑ روپے ریاستی حکومتوں اور 3137.64 کروڑ روپے نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو جاری کیے گئے۔ اس دوران ملک میں 10355 ٹریننگ سنٹر کھولے گئے۔ ان میں انرول تو 40 لاکھ 54 ہزار لوگوں نے کرایا، لیکن ٹریننگ 37 لاکھ 32 ہزار کو دی گئی۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ سرٹیفکیٹ صرف 28 لاکھ 76 ہزار کو ہی دیے گئے۔ ایسا کیوں کیا گیا، اس کی جانکاری سرکار نے نہیں دی۔ اب اس سے بڑی حیرانی کی بات یہ رہی کہ صرف 10 لاکھ 64 ہزار 420 لوگوں کو ہی ملازمت مل پائی۔
اگر سیاسی طور پر تجزیہ کریں تو روزگار کے نظریہ سے بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، مہاراشٹر، کیرالہ، جھارکھنڈ جیسی ریاستوں کو مودی حکومت کی اس اسکیم کا کوئی خاص فائدہ نہیں ملا۔ مہاراشٹر میں 2.12 لاکھ لوگوں نے ٹریننگ لی، لیکن ملازمت ملی صرف 25271 لوگوں کو۔ کیرالہ میں صرف 9791 لوگوں کو ملازمت ملی۔
اسی طرح چھتیس گڑھ میں 12739، گجرات میں 18009، کرناٹک میں 20065 اور جھارکھنڈ میں 11871 لوگوں کو ہی ملازمت مل پائی۔ اتر پردیش میں سب سے زیادہ 594076 لوگوں نے ٹریننگ لی، لیکن ملازمت صرف 165105 لوگوں کو ہی مل پائی۔ اسی طرح بہار میں 171369 لوگوں نے ٹریننگ لی لیکن ملازمت صرف 43531 لوگوں کو ہی ملی۔
دراصل بغیر کسی تیاری کے شروع کیا گیا یہ منصوبہ بھی جلد ہی تنازعہ کا شکار ہو گیا تھا۔ منصوبہ کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے آناً فاناً میں ملک بھر میں ٹریننگ سنٹر کھول دیے گئے۔ لیکن بعد میں جب حکومت کی جانب سے سروے کرایا گیا تو پتہ چلا کہ حکومت کے ذریعہ گرانٹ دیے گئے تقریباً 7 فیصد ادارے صرف کاغذوں پر چل رہے ہیں۔ ان کے علاوہ 21 فیصد ادارے ایسے ہیں جن کے پاس ٹریننگ کے لیے بنیادی سامان اور وسائل تک نہیں تھے۔
سروے کرنے والے اشخاص جب موقع پر پہنچے تو ٹریننگ سنٹر کے پتے پر کچھ اور ہی ملا۔ وہیں ٹریننگ سنٹر چلانے والوں کا الزام ہے کہ جو لوگ سنٹر چلا بھی رہے تھے انھیں حکومت کی جانب سے پیسے ہی نہیں دیے گئے۔ ان سے کہا گیا تھا کہ انھیں ہر تین مہینے میں 120 سیٹیں دی جائیں گی، یعنی انھیں 160 نوجوانوں کو ٹریننگ دینے کے لیے پیسہ دیا جائے گا، لیکن ٹریننگ سنٹرس کو 60 سیٹوں کے ہی پیسے دیے گئے۔ وہ بھی پورے نہیں ملے۔
ان سنٹرس کے مالکان کا الزام ہے کہ حکومت کی شرط تھی کہ ملازمت دلانے کی ذمہ داری سنٹر مالکان کی ہوگی، لیکن جب ملک میں روزگار کے مواقع ہی نہیں ہیں تو وہ کہاں سے ملازمت دلا سکتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے لاکھوں روپے کی ان کی ادائیگی نہیں کی بلکہ اس منصوبہ کے تحت ان بڑے صنعتی گھرانوں کو فائدہ پہنچایا گیا جو پہلے ٹریننگ کے نام پر حکومت سے پیسے لے رہے ہیں، پھر ٹریننگ لینے والوں کو ملازمت دے رہے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 05 Apr 2019, 10:12 AM