کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ: 101 گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل

ملزمان کے وکیل اے کے ساونی نے کہا کہ کیس کے 355 گواہان میں سے 101 گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل کی جاچکی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

پٹھان کوٹ: کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاﺅں میں رواں برس جنوری کے اوائل میں پیش آئے دل دہلانے والے آٹھ سالہ کمسن بچی کی عصمت دری اور قتل واقعہ کے ملزمان کا 'ان کیمرہ' اور روزانہ بنیادوں پر ٹرائل ڈسٹرک اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت میں جاری ہے۔

عدالتی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ عدالت میں اب تک 101 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں اور ان کے بیانات پر جرح کا عمل بھی مکمل کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چند روز سے معاملے کی تحقیقات کرنے والی جموں وکشمیر کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے بیانات قلمبند کرنے اور ان پر جرح کا عمل جاری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ کرائم برانچ کی خصوصی ٹیم میں شامل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولس (کرائم برانچ) نثار حسین اور سب انسپکٹر عرفان وانی کے بیانات قلمبند کئے گئے ہیں اور ان پر جرح کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کے گواہان کی تعداد 355 ہے۔

ملزمان کے وکیل اے کے ساونی نے کہا کہ کیس کے 355 گواہان میں سے 101 گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل کی جاچکی ہے۔

ساونی نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کے عہدیداروں کے بیانات پر جرح جاری ہے۔ ایس آئی عرفان وانی اور ڈی ایس پی نثار احمد کے بیانات پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔ اب تک 101 گواہان کے بیانات پر جرح ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا 'یہ پبلک پراسیکیوٹر کی مرضی ہے کہ وہ کس گواہ کو پیش کریں گے اور کس گواہ کو پیش نہیں کریں گے۔ کیس کے گواہان کی تعداد 355 ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ مزید گواہ پیش کریں گے۔ جو وہ ثابت کرنا چاہتے تھے وہ انہوں نے ثابت کرلیا۔ ہم بھی اپنی جگہ خوش ہوں گے کہ اگر جلدی ختم ہوجاتا ہے تو اچھا ہے۔ ہم جتنی محنت کرسکتے تھے، ہم نے کرلی ہے'۔

ایڈوکیٹ ساونی نے کہا کہ عدالت انہیں بیانات کو مانتی ہے جو کمرہ عدالت میں قلمبند کئے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'پرائیویٹ گواہان کا کہنا ہے کہ انہیں مار مار کر ان سے بیانات لئے گئے ہیں۔ تین گواہان نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے کہ ان سے زبردستی بیان لیے گئے ہیں۔

بتادیں کہ سپریم کورٹ نے 7 مئی کو کٹھوعہ کیس کی جانچ سی بی آئی سے کرانے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سماعت کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ کی عدالت میں منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے یہ حکم سنایا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم نامے کی روشنی میں پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کٹھوعہ سنجیو گپتا نے 22 مئی کو کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کی پٹھان کوٹ منتقلی کے باضابطہ احکامات جاری کردیئے تھے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر 31 مئی کو ڈسٹرک اینڈ سیشنز جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت میں کیس کی 'ان کیمرہ' اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی جس کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

کیس کے ملزمان میں واقعہ کے سرغنہ اور مندر کے نگراں سانجی رام، اس کا بیٹا وشال، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر ورما، سانجی رام کا بھتیجا وشال، وشال کا دوست پرویش کمار منو، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا ہیں۔

کیس کی ایک سماعت 16 اپریل کو سیشن جج کٹھوعہ سنجیو گپتا کی عدالت میں ہوئی تھی۔ جن ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، انہوں نے جج موصوف کے سامنے اپنے آپ کو بے گناہ بتاتے ہوئے نارکو ٹیسٹ (جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ) کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم متاثرہ کی فیملی کی جانب سے کیس کو چندی گڈھ منتقل کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنی پہلی سماعت میں ہی کیس کی کٹھوعہ عدالت میں سماعت پر روک لگائی تھی۔

ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاﺅں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نزدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔

کرائم برانچ پولس نے مئی کے مہینے میں واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیے تھے۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاﺅں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیا تھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

next