سری نگر: تاریخی جامع مسجد کے باہر شور وغل سے نمازی پریشان، انتظامیہ سے مداخلت کا مطالبہ

قدیم تاریخی جامع مسجد کے نمازیوں نے انتظامیہ سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ جامع کے گرد و پیش خیمہ زن چھاپڑی فروشوں کا شور وغل اور بے ہنگم ٹریفک نمازیوں کے لئے ذہنی کوفت و روحانی اذیت کا باعث بن رہا ہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: سری نگر کے پائین شہر کے نوہٹہ علاقے میں واقع 625 برس قدیم تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے والے شہریوں نے انتظامیہ سے شکوہ شکایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف جامع کے گرد وپیش خیمہ زن چھاپڑی فروشوں کا شور وغل اور دوسری طرف بے ہنگم ٹریفک نمازیوں کے لئے ذہنی کوفت و روحانی اذیت کا باعث بن رہا ہے۔

انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وادی کی اس تاریخی اور قدیم ترین عبادت گاہ کے گرد و پیش کے ماحول کو صاف ستھرا، جاذب نظر اور پرکشش بنانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ نمازیوں نے کہا کہ جامع کے باہر سیکورٹی فورسز اہلکاروں اور ان کی گاڑیوں کی بھاری تعیناتی سے نمازی اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم جامع میں نہیں بلکہ کسی فوجی چھاونی میں نماز ادا کررہے ہیں۔

جامع مسجد میں عرصہ دراز سے تواتر کے ساتھ نماز پنجگانہ ادا کرنے والے ایک نمازی نے اپنا نام مخفی رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے یو این آئی اردو کو بتایا کہ جامع کے باہر کا ماحول مچھلی بازار کا منظر پیش کرتا ہے جو نمازیوں کے لئے ہی نہیں بلکہ زائرین و سیاحوں کے لئے بھی ذہنی کوفت اور روحانی اذیت کا باعث بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا: 'میں عرصہ دراز سے جامع مسجد میں مسلسل نماز پنجگانہ ادا کرتا ہوں، جامع میرے لئے ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلہ ایک روحانی سکون کی آمجگاہ ہے، لیکن جامع کے باہر ماحول مچھلی بازار سے کم نہیں ہے'۔

موصوف نمازی نے کہا کہ ایک طرف مین دروازوں کے قریب چھاپڑی فروش اور ریڈہ بان قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور دوسری طرف مسجد کے عین دروازوں کے سامنے آٹو اسٹینڈ ہیں جن کے شور وغل سے نمازیوں، سیاحوں اور دوسرے راہگیروں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک اور نمازی نے کہا کہ جامع کے اندر اور باہر صفائی ستھرائی کا خاطر خواہ انتظام و انصرام نہیں ہے جس کے باعث جامع کے باہر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر جمع ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جامع کے گرد و پیش ٹریفک نظام کو منظم کرنے کے لئے کوئی ٹریفک سگنل ہے نہ کوئی عملہ تعینات ہوتا ہے جس کے نتیجے میں جامع کے ارد گرد ٹریفک جام اب ایک معمول بن گیا ہے۔ موصوف نمازی نے کہا کہ ماہ رمضان کی آمد کے پیش نظر جامع کے گرد وپیش کے ماحول کو صاف ستھرا اور شور وغل سے پاک وصاف بنایا جائے۔

نمازیوں کا کہنا ہے کہ جامع نہ صرف اہلیان وادی کے لئے روحانی سکون کا منبع ہے بلکہ یہ ایک تاریخی و قدیم تریب معبد ہونے کے پیش نظر سیاحتی اہمیت کا بھی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع کے ارد گرد کے ماحول کو جاذب نظر اور صاف ستھرا رکھنے سے جہاں نمازیوں اور زائرین کے مشکلات دور ہوں گے وہیں سیاحوں کو بھی ذہنی کوفتوں سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا۔

قابل ذکر ہے کہ تاریخی جامع مسجد جہاں روحانی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے وہیں سیاسی سرگرمیوں کا بھی مرکز رہا ہے۔ سال گزشتہ کے پانچ اگست کے مرکزی حکومت کے فیصلوں سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر جامع مسجد میں قریب پانچ ماہ تک نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔ جامع انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جامع مسجد کے گرد وپیش سیکورٹی حصار کو ختم کرنے تک نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن ہے تام بعد ازاں جامع میں نماز جمعہ ساڑھے چار ماہ کے بعد ادا کی گئی تھی۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2016 میں حزب المجادین سے وابستہ معروف جنگجو کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھی جامع مسجد میں 19 ہفتوں کے بعد نماز جمعہ کی ادائیگی بحال ہوئی تھی۔