سرینگر: بہار کا موسم اپنے جوبن پر، بادام کے شگوفے سیاحوں کی توجہ کا مرکز

شہرخاص کے رعناواری علاقہ میں واقع بادام واری جہاں بادام کے شگوفوں نے اس وقت ہر طرف سفید اور گلابی رنگ بکھیر دیے ہیں، میں سیاحوں اور عام لوگوں کا اژدھام دیکھا جارہا ہے۔

By یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں اس وقت بہار کا موسم اپنے جوبن پر ہے۔ جہاں جھیل ڈل کے کنارے اور دلکش زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع ایشیاء کے سب سے بڑے باغِ گل لالہ کو سیاحوں کے لئے کھولنے میں ابھی محض دس دن کا وقت باقی ہے، وہیں شہرخاص کے رعناواری علاقہ میں واقع بادام واری جہاں بادام کے شگوفوں نے اس وقت ہر طرف سفید اور گلابی رنگ بکھیر دیے ہیں، میں سیاحوں اور عام لوگوں کا اژدھام دیکھا جارہا ہے۔ تاریخی ہاری پربت کے قلعے کے دامن میں واقع ’بادام واری‘ میں لگے سینکڑوں بادام درختوں پر کھلے شگوفے وادی میں موجود غیرریاستی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
بادام کے شگوفے

ممبئی سے تعلق رکھنے والے سیاح جوڑے نے یو این آئی کے نامہ نگار کو بتایا کہ انہوں نے زندگی میں پہلی دفعہ بادام درختوں کے شگوفوں کا دلکش منظر دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا ’ہمیں بادام واری کے بارے میں کوئی علمیت نہیں تھی۔ ہمیں ڈرائیور نے یہاں آنے کا مشورہ دیا۔ ہم اس کی خوبصورتی کو لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ واقعی کشمیر کا چپہ چپہ جنت کا منظر پیش کررہا ہے‘۔ سیاح جوڑے نے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے بادام واری کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا ’گلمرگ، سونہ مرگ، جھیل ڈل اور مغل باغات کے بارے میں جانتے تھے لیکن بادام واری کے بارے میں ہمیں کوئی وا قفیت نہیں تھی۔ ہم نے یہاں اپنی درجنوں تصویریں کھینچی ہیں اور ان کو فوراً سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا ہے۔ ہم اگلی دفعہ اپنی پوری فیملی کو ساتھ لائیں گے‘۔ بادام واری میں اس وقت غیرریاستی سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی خاصی بھیڑ دیکھی جارہی ہے۔

یہاں کی سیر کرنے والے ہر ایک شخص کو بادام کے شگوفوں کی خوبصورتی کا نظارہ کرنے اور ان کے سامنے تصویریں کھینچنے میں مصروف دیکھا جارہا ہے۔ وادی میں بادام کے درختوں پر رنگا رنگ پھول کھلنے کو موسم بہار کی آمد کا نقیب سمجھا جاتا ہے۔ بادام واری کو سال 2008 میں جموں وکشمیر بینک نے بحال کرکے تفریح گاہ بنالیا تھا۔ جہاں سال 2008 سے قبل سیاح مئی کے آخری ہفتے سے وادی کا رخ کرنا شروع کرتے تھے وہیں اب بادامی واری اور باغ گل لالہ کی بدولت مارچ سے ہی سیاح کشمیر وارد ہوتے ہیں۔ گذشتہ 10 برسوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ ہندوستان کے مختلف کونوں اور غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بادامی واری اور باغ گل لالہ دیکھنے میں دلچسپی دکھائی۔