ماسٹر پلان 2041 میں دہلی کے شہریاتی اور گرین بیلٹ دیہات کے لیے خصوصی پالیسی بنائی جائے: ڈاکٹر نریش کمار

دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے ماسٹر پلان 2041 میں 309 شہریاتی اور 48 گرین بیلٹ دیہات کے تحفظ، ترقی، بنیادی سہولیات اور گرام سبھا اراضی کی حفاظت کے لیے خصوصی پالیسی کا مطالبہ کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر نریش کمار / تصویر بشکریہ ایکس /&nbsp;DrNareshkr@</p></div>
i

نئی دہلی: دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ٹی ایس سندھو کو ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ماسٹر پلان 2041 میں دہلی کے شہریاتی اور گرین بیلٹ دیہات کے تحفظ، منصوبہ بند ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسٹر پلان 2041 دارالحکومت کے دیہات کے مستقبل کا تعین کرنے والی ایک اہم دستاویز ہے، اس لیے اس میں دیہی اور شہریاتی دیہات کی ضروریات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ دہلی میں مجموعی طور پر 357 دیہات ہیں، جن میں 309 دیہات کو شہریاتی قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ 48 دیہات اب بھی گرین بیلٹ علاقے میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے وسط میں واقع بیشتر شہریاتی دیہات آج بھی ترقی کی مرکزی دھارا سے دور ہیں اور ان کی شناخت محض لال ڈورا علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

انہوں نے مونیریکا، حوض خاص، کوٹلہ، پِلانجی، بیر سرائے اور نیب سرائے جیسے دیہات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں آج بھی سڑکوں، سیوریج، پارکنگ، کھیل کے میدانوں، کمیونٹی مراکز، کتب خانوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ کئی دیہات کی گلیاں صرف پانچ سے سات فٹ چوڑی ہیں، جس کے باعث ایمبولینس اور آتش نشانی کی گاڑیوں کو رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔


ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ جن دیہات کی زرعی اراضی بڑے پیمانے پر شہر کی ترقی کے لیے حاصل کی گئی، ان کے شہریاتی قرار دیے جانے کے بعد دہلی لینڈ ریفارمز ایکٹ 1954 کا اطلاق ختم ہو گیا اور دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ نافذ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد دفعہ 507 کے تحت گرام سبھا کی ہزاروں ایکڑ زمین بغیر کسی معاوضے کے دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو منتقل کر دی گئی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اتنی بڑی مقدار میں زمین حاصل ہونے کے باوجود دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے دیہات میں منصوبہ بند ترقی کو یقینی نہیں بنایا اور نہ ہی عوامی سہولیات کے مناسب انتظامات کیے۔ نتیجتاً بیشتر دیہات آج بھی صاف پینے کے پانی، مؤثر سیوریج نظام، پارکوں، کشادہ سڑکوں اور کمیونٹی سہولیات سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لال ڈورا علاقوں میں رہنے والے افراد بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب مکانات کی عمودی توسیع پر مجبور ہیں، لیکن اسی رفتار سے عوامی سہولیات میں اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث دیہات کی سماجی اور ثقافتی شناخت بھی بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر نریش کمار نے مطالبہ کیا کہ گرین بیلٹ کے 48 دیہات کی گرام سبھا اراضی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو منتقل نہ کی جائے بلکہ ہر گاؤں کی آبادی اور ضرورت کے مطابق اسی زمین پر پارک، کھیل کے میدان، کتب خانے، جمنازیم، کمیونٹی مراکز، شادی گھروں اور ثقافتی مراکز کی تعمیر کی جائے تاکہ دیہات کی شناخت اور سماجی ڈھانچہ محفوظ رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے دیہات صرف جغرافیائی اکائیاں نہیں بلکہ دارالحکومت کی تاریخی، سماجی اور ثقافتی وراثت کے اہم مراکز ہیں، اس لیے ماسٹر پلان 2041 میں ان کے لیے تحفظ اور ترقی کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کی جانی چاہیے۔