مکہ مسجد دھماکہ میں پانچوں اہم ملزمین کو بری کرنے والے جج کا استعفیٰ

جج رویندر ریڈی

جج رویندر ریڈی نے مکہ مسجد دھماکہ معاملے میں فیصلہ سنائے جانے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا اور اس خبر نے لوگوں میں گہما گہمی شروع کر دی ہے۔

مکہ مسجد دھماکہ معاملہ میں پانچوں اہم ملزمین کو بری کرنے والے این آئی اے کے جج رویندر ریڈی نے اچانک اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ریڈی نے اپنے استعفیٰ کے پیچھے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیا ہے لیکن فیصلہ سنائے جانے کے بعد اچانک دیے گئے اس استعفیٰ سے لوگوں میں حیرانی ہے۔ اسیمانند سمیت پانچوں ملزمین کو ثبوتوں کی کمی کے سبب بری کیے جانے کے فیصلے کے بعد اس طرح کی خبریں سننے کو ملی تھیں کہ رویندر ریڈی نے 10 دن کی چھٹی لی تھی لیکن اس کے فوراً بعد ہی استعفیٰ کی خبر سامنے آ گئی۔ جسٹس رویندر ریڈی نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اپنا استعفیٰ بھیجا ہے۔

استعفیٰ کی اس خبر کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’مکہ مسجد دھماکہ کیس میں سبھی ملزمین کو بری کرنے والے جج کا استعفیٰ حیران کرنے والا ہے اور وہ جج صاحب کے فیصلے سے حیرت زدہ ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ خصوصی این آئی اے عدالت نے 11 سال پرانے معاملے میں آج فیصلہ سناتے ہوئے سبھی پانچ ملزمین کو ثبوتوں کی کمی کے سبب بری کر دیا تھا۔ بری ہونے والوں میں سوامی اسیمانند بھی شامل ہیں جو پہلے سے ہی اس کیس میں ضمانت پر رہا چل رہے تھے۔

سب سے زیادہ مقبول