تیس ہزاری میں خاتون ڈی سی پی کی ’لنچنگ‘ کی کوشش ہوئی تھی، جانچ رپورٹ میں انکشاف

دہلی کی تیس ہزاری عدالت احاطہ میں وکیلوں اور پولس سے تصادم کے دوران بھیڑ نے خاتون ڈی سی پی مونیکا بھاردواج کی لنچنگ کی کوشش کی تھی۔ یہ انکشاف معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ میں ہوا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

دہلی پولس کی خصوصی برانچ کی ایک ٹاپ سیکرٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2 نومبر کو تیس ہزاری کورٹ میں تقریباً 200 لوگوں کی بھیڑ نے دہلی پولس کی ڈی سی پی مونیکا بھاردواج پر حملہ کر دیا تھا اور ان کی ’لنچنگ‘ کی جا سکتی تھی۔ اسی دن عدالتی احاطہ میں وکیلوں اور پولس کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر کچھ پولس والوں نے انھیں نہیں بچایا ہوتا تو ان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ اسپیشل برانچ کی اس رپورٹ کی تصدیق ڈی سی پی کے پی ایس او کے اس آڈیو کلپ سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ اپنے کسی ساتھی کو پورا واقعہ بتا رہے ہیں۔

اس واقعہ کا ویڈیو بھی وائرل ہو رہا ہے جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ کس طرح وکیلوں اور دوسرے لوگوں کی بھیڑ ڈی سی پی مونیکا بھاردواج کا پیچھا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ عدالتی احاطہ میں پولس کی گاڑیوں کو آگ لگائی جا رہی ہے۔ یہ ویڈیو اب معاملے کی جانچ کا اہم حصہ ہے۔ ویڈیو سے واضح ہے کہ بھاردواج کا پی ایس او اور کچھ دیگر کانسٹیبل کو مشتعل بھیڑ نے گھیر رکھا ہے۔ اس بھیڑ میں زیادہ تر لوگ وکیلوں کی پوشاک پہنے ہوئے ہیں اور مونیکا بھاردواج اور دوسرے پولس والوں پر حملہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاتون ڈی سی پی اور ان کے اسٹاف کی بری طرح پٹائی کی گئی اور نزدیک کی پولس چوکی کو مدد کے لیے بھیجے گئے پیغام پر فوراً کارروائی کی گئی۔ دہلی کوتوالی کے ایس ایچ او انسپکٹر راجیو بھاردواج 12-10 پولس والوں کے ساتھ فوراً موقع پر پہنچ گئے تھے اور انھوں نے مونیکا بھاردواج اور دیگر پولس والوں کو بھیڑ سے بچایا تھا۔

رپورٹ مین انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر یہ پولس ٹیم موقع پر نہیں پہنچتا تو بھیڑ ڈی سی پی مونیکا بھاردواج اور ان کے ساتھیوں کی لنچنگ کر سکتی تھی۔ ڈی سی پی کو بچانے کی قواعد میں انسپکٹر بھاردواج کو بھی سر میں چوٹ لگی تھی اور دوسرے کانسٹیبل بھی سنگین طور پر زخمی ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک کانسٹیبل کے کان کا پردہ پھٹ گیا اور اسے سنگین حالت میں نزدیک کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

ویڈیو کے علاوہ تقریباً 5 منٹ کا آڈیو کلپ بھی وائرل ہو رہا ہے جس میں پولس والا کہتے سنا جا سکتا ہے کہ کس طرح موقع پر موجود ڈی سی پی مونیکا بھاردواج کے ساتھ گالی گلوچ اور مار پیٹ کی گئی۔ اتنا ہی نہیں، ان کے پی ایس او کا ریوالور بھی چھیننے کی کوشش کی گئی۔ آڈیو کلپ میں کہا جا رہا ہے کہ پی ایس او کو لوہے کی چین سے بیہوش ہونے تک پیٹا گیا اور واقعہ کے بعد عدالت سے باہر آ کر مونیکا بھاردواج کس طرح دیر تک روتی رہیں۔

پولس ذرائع کا کہنا ہے کہ آڈیو کلپ ڈی سی پی کے پی ایس او اور اس کے ایک معاون کے درمیان بات چیت کا ہے۔ اس نے اپنے ساتھی کو بتایا کہ اس حملے میں اس کے کندھے کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور ہاتھ و پسلیوں میں چوٹیں لگی ہیں۔ آڈیو کلپ سے پتہ چلتا ہے کہ 400-300 لوگوں نے ان پر حملہ کیا تھا اور اس کا ریوالور چھیننے کی کوشش کی گئی اور ڈی سی پی کو پیٹا گیا۔ بات چیت میں کہا گیا ہے کہ جس لوہے کی چین سے گیٹ بند کرتے ہیں، اسی سے پی ایس او کو سر پر حملہ کیا گیا تھا۔

دہلی پولس ہیڈکوارٹر میں تعینات ایک ڈی سی پی نے کہا کہ اس معاملے میں ایک اعلیٰ سطحی جانچ کی جا رہی ہے اور اس واقعہ سے جڑے آڈیو و ویڈیو کلپ سے بہت سی جانکاریاں مل رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی جانچ میں شامل کیا جا رہا ہے۔

Published: 8 Nov 2019, 11:11 AM