کورونا: مشترکہ پالیسی کے لیے سونیا گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ آج

کورونا بحران میں مشترکہ پالیسی تیار کرنے کے لیے کانگریس صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں 17 اپوزیشن پارٹیوں کی آج ایک میٹنگ ہو رہی ہے جس میں مہاجر مزدوروں اور راحت پیکیج پر تبادلہ خیال ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کانگریس صدر سونیا گاندھی کی صدارت میں آج (22 مئی) ملک کی 17 اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کی میٹنگ ہونے والی ہے۔ دوپہر تقریباً 3 بجے ویڈیو کانفرنسنگ سے ہونے والی اس میٹنگ میں مزدوروں کی ہجرت اور مرکزی حکومت کے راحتی پیکیج پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ کورونا بحران پر پالیسی طے کی جائے گی۔

اس میٹنگ میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے اور این سی پی لیڈر شرد پوار بھی شامل ہوں گے جب کہ دہلی میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی نے اس سے کنارہ کیا ہے۔ دوسری طرف امفان طوفان کی وجہ سے ہوئی تباہی کے باوجود مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس میٹنگ میں حصہ لینے پر اتفاق کا اظہار کیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ کانگریس صدر نے اس میٹنگ کے لیے خود کئی اپوزیشن لیڈروں سے فون پر بات کی ہے اور کورونا بحران کے دور میں مہاجر مزدوروں کی ہجرت کے ایشو پر پالیسی بنانے میں ان کی حمایت طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ میٹنگ میں موجودہ لیبر ایکٹ میں ہوئی تبدیلی پر بھی غور ہوگا۔ کچھ ریاستوں میں کام کے گھنٹوں کو بڑھایا گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں حکومتوں کے اس قدم کو مزدور مخالف قرار دے رہی ہیں۔

میٹنگ میں مرکز کے ذریعہ جاری راحت پیکیج کے ایشو پر بھی بات ہوگی۔ کئی اپوزیشن پارٹیوں نے مہاجر مزدوروں کو سیدھے معاشی مدد نہیں دینے کے مرکز کے فیصلے پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پہلے ہی مزدوروں کے پاس کام نہیں ہے۔ وہ مجبوری میں پیدل ہی اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ایسے میں انھیں فوری معاشی مدد کی ضرورت ہے، لیکن حکومت ان کی مدد نہیں کر رہی ہے۔

خبروں کے مطابق سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری بھی میٹنگ میں شامل ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ مہاجر مزدوروں اور ہر غریب کے کھاتے میں فوراً 7500 روپے منتقل کرنے کے مطالبہ پر اپوزیشن پارٹیوں سے حمایت مانگیں گے۔ اس کے علاوہ مہاجر مزدوروں کو مفت میں ان کی آبائی ریاستوں تک پہنچانے کے علاوہ اگلے 6 مہینے تک ہر غریب کو 10 کلو مفت راشن دینے کا بھی مطالبہ کریں گے۔

غور طلب ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مودی حکومت نے 25 مارچ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے۔ 18 مئی سے لاک ڈاؤن کا چوتھا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس دوران بڑی تعداد میں مزدور میٹرو پولیٹن سٹی سے اپنے گھر جانے کے لیے پیدل نکل پڑے ہیں اور کئی جگہ حادثات میں مزدوروں کی موت بھی ہوئی ہے۔