ٹائم مشین کے ذریعہ ماضی میں جا کر بھی تاریخ نہیں بدلی جا سکتی : حامد انصاری

سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے مرکز میں برسراقتدار این ڈی اے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ایسی مشین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو تاریخ کو بدل دے، لیکن اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان کے سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے ایک تقریب میں مرکزی حکومت کا نام لیے بغیر اس کے ذریعہ تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوششوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’موجدوں کا ایک سیٹ ایک ایسی مشین بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ذریعہ آپ ماضی میں واپس جا کر اسے پھر سے لکھ سکتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ٹائم مشین سے ماضی میں جا کر بھی تاریخ کو نہیں بدل پاؤ گے۔‘‘

سابق نائب صدر جمہوریہ نے یہ بیان 27 مئی کو ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو پر تصنیف کردہ ایک کتاب کی رسم اجراء تقریب کے دوران دیا۔ انھوں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ’’بہت عرصہ پہلے ’ٹائم مشین‘ نام کی ایک کتاب منظر عام پر آئی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی۔ اس میں ایک ایسی تکنیک کا تذکرہ تھا جس کے ذریعہ ماضی میں قدم رکھا جا سکتا تھا۔ اس وقت یہ کتاب لوگوں میں بہت پسند کی گئی تھی۔ لیکن آج بھی کچھ ایسے ’موجد‘ ہیں، مصنف نہیں، جو ایک ایسی ٹائم مشین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے وہ تاریخ میں جا کر اسے دوبارہ لکھ سکیں، لیکن اب ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔‘‘ حالانکہ حامد انصاری ’موجد‘ کسے کہہ رہے ہیں، اس سلسلے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کرتے ہیں، لیکن یہ اشارہ مرکزی حکومت کی طرف ہی ہے جو کئی بار کتابوں میں تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی ہوئی دیکھی گئی ہے۔ اپوزیشن بھی این ڈی اے حکومت پر تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کا الزام کئی بار عائد کر چکا ہے۔

حامد انصاری نے تاریخ کی کتابوں میں چھیڑ چھاڑ کرنے کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’تاریخ تو تاریخ ہے۔ آپ اس سے سبق لے سکتے ہیں۔ آپ اس سے پرجوش ہو سکتے ہیں۔ یا امتحان کی تیاری کے لیے صرف کالج طلبا کی طرح پڑھ سکتے ہیں۔ تاریخ کو بدلا نہیں جا سکتا ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ حامد انصاری کا یہ بیان اس وقت اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گزشتہ دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کا معاملہ بہت گرمایا ہوا تھا اور خبریں یہاں تک ملی تھیں کہ جب حامد انصاری اے ایم یو کے ہی ایک گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے تو شرپسندوں کی ایک بڑی تعداد ان پر حملہ آور ہونے کے لیے بڑھی تھی لیکن اسٹوڈنٹس نے ان کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا۔

next