کورونا کا بہانہ بنا کر پیلی بھیت ٹائیگر ریزرو سے مسلم ملازموں کو نکالا گیا

نکالے گئے ملازم پیلی بھیت ٹائیگر ریزرو میں دہاڑی مزدور کے طور پر کام کرتے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا تو کسی مذہب سے لینا دینا نہیں ہے، پھر صرف مسلم ملازموں کو ہی گھر بیٹھنے کیوں کہا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پیلی بھیت: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں اکثریتی طبقہ کے شرپسند عناصر کی متعصبانہ سرگرمیوں کا سامنا کر رہے مسلمانوں کی پریشانیاں کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ ابھی تک یہ مسئلہ عوامی سطح پر ہی درپیش تھا مگر اب اس مسئلہ کی کچھ مثالیں سرکاری شعبہ جات میں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔ قدرتی مناظر اور نایاب و خونخوار پرند و چرند کی آماجگاہ کے طور پر اقوام عالم میں مشہور پیلی بھیت ٹائیگر ریزرو میں ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا ہے جب ٹائیگر ریزرو میں ڈیلی ویز (دِہاڑی) پر کام کرنے والے کچھ مستقل ملازمین کو محض مسلم ہونے کی بنیاد پر ڈیوٹی سے برطرف کرتے ہوئے گھر بیٹھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔

موصولہ اطلاع کے مطابق ٹائیگر ریزرو کی براہی رینج میں تعینات رینج افسر دنیش کمار گوئل کے ذریعہ اقلیتی طبقہ کے تین ملازمین کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا۔ بعد میں جب فرقہ وارانہ امتیاز برتے جانے کی خبر عام ہوئی تو ایک ملازم کو واپس کام پر بُلا لیا گیا، لیکن دو ملازمین اب بھی اپنے گھروں پر خالی بیٹھے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دونوں ملازمین کے گھروں میں معاشی تنگ دستی کا حال بنا ہوا ہے۔

دراصل براہی جنگل رینج میں کام کرنے والے جنگل داروغہ منصور عباس علی، بالس آپریٹر خوشنود اور فیلڈ واچر نسیم کو رینج افسر کے ذریعہ گھر بیٹھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی اور بتایا گیا کہ جب تک یہ کورونا وائرس کی بیماری چل رہی ہے آپ اپنے گھروں پر بیٹھو۔ رینج افسر کی مذکورہ ہدایت کے بعد جب مسلم ہونے کی بنیاد پر برتے گئے امتیازی سلوک کے معاملے نے زور پکڑا تو رینج افسر نے ڈپٹی ڈائریکٹر کے دورے کی بات کہتے ہوئے جنگل داروغہ منصور عباس علی کو کام پر واپس بُلا لیا لیکن بالس آپریٹر خوشنود اور فیلڈ واچر نسیم کو اب بھی ڈیوٹی سے دور رکھا گیا ہے۔

براہی رینج افسر کے اس سلوک سے ٹائیگر ریزرو کے دیگر مسلم ملازمین میں فکر و تشویش کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا تو ہر مذہب کے لوگوں میں ہے تو اس کے لئے مسلمانوں کو ہی قصور وار کیوں ٹھہرایا جارہا ہے۔

براہی رینج افسر کے اس غلیظ رویہ نے ٹائیگر ریزرو کے ذمہ داران و افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سوچ و فکر کے افسران و ذمہ داران کے رہتے ہوئے ملک کا مستقبل تابناکیوں کے بجائے تاریکیوں کی طرف ہی جائے گا۔ وہیں دوسری جانب براہی رینج کے افسر دنیش کمار گوئل کا کہنا ہے کہ نسیم میاں کی شکایت ملنے پر انہیں کام سے ہٹایا گیا جبکہ خوشنود خان کو لاک ڈاؤن کے چلتے آمد و رفت میں پریشانی ہورہی تھی اس لئے انہیں لاک ڈاؤن تک گھر پر رہنے کو بولا گیا ہے اور جنگل داروغہ منصور عباس علی اپنی ڈیوٹی پر ہیں۔

وہیں دوسری جانب ڈیوٹی سے ہٹائے گئے نسیم میاں کا کہنا ہے کہ میری شکایت کس نے کی ہے اور کیا الزامات لگائے ہیں کم از کم مجھے بتایا جانا چاہیے اور میرا موقف بھی معلوم کیا جانا چاہیے تھا جبکہ مجھے ڈیوٹی سے روکے جانے سے قبل کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں مسلمانوں کے قصور وار ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ خوشنود خان کو ہٹائے جانے کی جو وجہ بتائی جارہی ہے وہ وزیر اعلی اتر پردیش کی ہداہت کی صریح خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ لاک ڈاؤن کے چلتے کسی ملازم کی تنخوہ نہیں کاٹی جائے گی۔ لیکن یہاں تو لاک ڈاؤن کی بات کہہ کر ڈیوٹی ختم کر کے ملازمت سے ہی برطرف کئے جانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

(ابو شہزر کی رپورٹ)

next