اتر پردیش کے بجٹ میں عوامی مسائل کا حل غائب: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے بجٹ پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ تو آ گیا ہے لیکن اس میں لوگوں خصوصاً کسانوں کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے

پرینکا گاندھی
پرینکا گاندھی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس کی اترپردیش کی انچارج اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے بجٹ پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ تو آگیا ہے لیکن اس میں لوگوں اور خصوصاً کسانوں کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ پرینکا گاندھی نے کسانوں کے کچھ مسائل کو بھی اٹھایا۔

پرینکا گاندھی نے بدھ کے روز طنز کرتے ہوئے کہا کہ،’’اترپردیش حکومت کا بجٹ آیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف بجٹ لے کر آئی ہے اور اس میں ریاست کے کسانوں سے جڑے کسی بھی مسئلے کے حل کےلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

پرینکا گاندھی نے ٹویٹ میں لکھا، ’’تر پردیش حکومت کا بجٹ آیا ہے۔ کسانوں کے آوارہ جانوروں کے مسئلے کا حل اس میں سے غائب ہے۔ گنے کا بقایہ جات غائب ہے۔ کسانوں کی فصل کی بربادی کا معاوضہ غائب ہے۔ کسانوں کی فصل کے دام کی بات غائب ہے۔‘‘

پرینکا گاندھی نے اپنے ٹوئٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں کئی کسان اپنی پریشانوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کو ’بجٹ کے بعد کسان کی رائے‘ کا نام دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ منگل کے روز یوپی اسمبلی میں یوگی کی حکومت نے بجٹ 2020 پیش کیا تھا۔ پانچ لاکھ کروڑ سے زیادہ کے اس بجٹ پر تمام حزب اختلاف کی جماعتوں نے تنقید کی ہے۔ بجٹ پر اپنا تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو نے کہا کہ اعدادوشمار کی بازی گری میں ماہر یوگی حکومت نے نوجوانوں اور کسانوں کے ساتھ فریب کیا ہے۔

للو نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں کے اندر ریاست میں نوجوان بے روزگاروں کی تعداد 12.5 لاکھ تک بڑھ گئی ہے۔ بجٹ میں سبکدوش ٹیچروں کو ثانوی تعلیمی بورڈ میں نوکری دینے کا اعلان بے روزگار نوجواں کے ساتھ اعتماد شکنی ہے۔ وہیں فروغ ہنر مندی اسکیم بھی فریب دہی پر مبنی ہے۔