سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر: سی بی آئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر، تمام 22 ملزمان بری

خصوصی سی بی آئی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الزامات ثابت کرنے کے لئے ثبوت ضروری ہوتے ہیں لیکن سی بی آئی ملزمان کے خلاف ثبوت پیش نہیں کر پائی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: ممبئی کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج ایس جے شرما نے آج یہاں 2005میں ہوئے سہراب الدین شیخ کے فرضی انکاونٹر اور اس کی بیوی کوثر بی اور دوست تلسی رام پرجا پتی کے قتل میں ملوث تما م 22 افراد کو ’’غیر مطمئن ‘‘ثبوت کی بنیاد پر بری کردیا ہے اور عدالت کو مذکورہ دن دہاڑے کیے جانے والے قتل کے معاملات میں سازش کا بھی کوثبوت نہیں دکھائی دیا ہے۔کیونکہ 92گواہ سماعت کے دوران منحرف ہوگئے ،حالانکہ سی بی آئی کا الزام عائد کیا تھا کہ گجرات پولیس کے افسران نے ان تینوں کو سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت سرعام موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔

سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر: سی بی آئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر، تمام 22 ملزمان بری

سی بی آئی کے مطابق سہراب الدین انکاونٹر معاملہ میں 38 افراد کیخلاف فردجرم داخل کی گئی تھی، ان میں بی جے پی کے صدرامت شاہ ،سابق اعلیٰ پولیس ڈی جی ونجارا اور دیگر پولیس سمیت 16لوگوں کو عدالت نے پہلے ڈسچارج کردیا ہے ۔اس مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ کے تقریباً92گواہ منحرف ہوگئے۔

خصوصی سی بی آئی جج ایس جے شرما نے ان منحرف گواہوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ معذور ہیں اور ان کے مطابق غیرمطمئن ثبوت ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرکاری مشنری نے اور استغاثہ نے تفتیش میں بھر پورکوشش کی ہے اور 210گواہوں کو جمع کیا اور یہ استغاثہ کی غلطی نہیں ہے ،اگر گواہ عدالت میں گواہی نہیں دینا چاہتے ہیں۔اس موقع پر سہراب الدین کے بھائی رعب الدین شیخ نے عدالت کے فیصلہ پر احتجاج کیا اور کہا کہ ان کا خاند ان اس فیصلہ کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرے گا۔

سی بی آئی کی تحقیقات کے مطابق سہراب الدین شیخ ،اس کی بیوی کوثربی اور دوست تلسی رام پرجا پتی کو حیدرآباد سے مہاراشٹر کے شہرسانگلی کے درمیان سفر کے دوران گجرات پولیس نے 22نومبر 2005کو نے بس سے نیچے اتار لیا اورچار دنوں بعد سہراب الدین شیخ کا احمد آباد کے قریب فرضی انکاونٹر کردیا اور دعویٰ کیا کہ وہ لشکر طیبہ کے لیے سرگرم تھا اور گجرات کے اُس وقت کے وزیراعلیٰ ،وزیراعظم نریندر مودی کا قتل کے منصوبہ پر عمل کرنا چاہتا تھا۔ سی بی آئی نے بتایا کہ اس کی اہلیہ کوثر بی کسی دوسرے مقام پر قید رکھا گیا اور اس کی عصمت دری کے بعد 29 نومبر 2005کو ہی قتل کرنے کی سازش رچی گئی اور اس کے ایک سال بعددسمبر 2007میں تلسی پرجا پتی کو بھی گجرات اور راجستھان پولیس نے دونوں ریاستوں کی سرحدپر چپری کے مقام پر گولی ماردی گئی۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ پرجاپتی کو ایک مقدمہ کی سماعت کے سلسلہ میں احمد آباد سے راجستھان لے جاتے ہوئے اس نے فرار ہونے کی کوشش کی اور پولیس کی گولی کا شکار بن گیا۔جن لوگوں کو پہلے ہی ڈسچارج کیا گیا ہے کہ ان میں گجرات پولیس کے افسر ابھیے چداسما ،راجستھان کے سابق وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریا ،گجرات پولیس کے سابق سربراہ پی سی پانڈے اور اعلیٰ پولیس افسرگیتا جوہری شامل ہیں ،جبکہ بی جے پی کے صدر امت شاہ کو عدالت نے پہلے ہی ڈسچارج کردیا ہے کہ ان کے خلاف سیاسی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا گیا تھا جوکہ اس دوران گجرات کے وزیرداخلہ تھے۔

اس معاملہ کوسی بی آئی کو 2010میں حوالے کیا گیا اور سی بی آئی کے وکیل بی پی راجو نے خامیوں کا اعتراف میں کیا اورسپریم کورٹ نے ستمبر 2012میں سیاسی طورپرحساس مقدمہ کو ممبئی کی عدالت میں منتقل کیا تھا۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)