احمد آباد: ٹرمپ دورہ سے پہلے بننے والی دیوار کے پاس جھگی-جھونپڑی والوں کی بھوک ہڑتال شروع

کیرالہ کی سماجی کارکن اشوتی جوالا ’شرنی ویاس‘ سلم ایریا کے سامنے بنی دیوار کے پاس بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئی ہیں اور ان کا ساتھ جھگی-جھونپڑی میں رہنے والے لوگ بھی دے رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

امریکی صدر ڈونالنڈ ٹرمپ کے ہندوستان دورہ سے قبل گجرات کے احمد آباد میں بننے والی ’خاص دیوار‘ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ مبینہ طور پر ’اچھے دن‘ دکھانے کی کوشش میں تیار کی جا رہی دیوار سے جھگی-جھونپڑی والے لوگ کافی ناراض ہیں اور انھوں نے دیوار کے پاس بھوک ہڑتال شروع کر دیا ہے۔ دراصل میڈیا ذرائع میں یہ خبریں پہلے ہی آ چکی ہیں کہ جھگی-جھونپڑی میں رہنے والے تقریباً 200 افراد کو جگہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور وہاں تقریباً 600 میٹر اونچی ایک ایسی دیوار بنائی جا رہی ہے جس سے کہ صدر ٹرمپ وہاں سے گزرتے وقت ’غربت اور بدحالی‘ کو نہ دیکھ سکیں۔ لیکن جھگی-جھونپڑے میں رہنے والے لوگوں نے اس عمل کے خلاف اپنی آواز بلند کر دی ہے۔

موصولہ خبروں کے مطابق کیرالہ کی سماجی کارکن اشوتی جوالا شرنی ویاس سلم ایریا کے سامنے بنی دیوار کے پاس بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئی ہیں اور ان کا ساتھ جھگی-جھونپڑی میں رہنے والے لوگ بھی دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جوالا ایک سماجی تنظیم چلاتی ہیں جو بے گھر اور بزرگ لوگوں کو کھانے اور رہنے کے لیے انتظام کرتی ہے۔ انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ سے بات چیت میں بھوک ہڑتال کے بارے میں جوالا کا کہنا ہے کہ انھوں نے اخبار میں جھگیوں کو چھپانے کے لیے گجرات حکومت کی طرف سے بنائی جا رہی 600 میٹر کی دیوار کے بارے میں پڑھا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ مجھے یہ خبر پڑھ کر جھٹکا لگا۔ اس کے بعد ہی جھگی-جھونپڑی میں رہنے والوں کی حمایت میں ہڑتال کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

جوالا کہتی ہیں کہ جب وہ احمد آباد پہنچیں اور جھگی جھونپڑی میں رہنے والے لوگوں سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ پولس نے وہاں رہنے والے لوگوں کو ڈرایا ہے۔ جوالا کا کہنا ہے کہ حکومت ان جھونپڑی والوں کے ساتھ جو کر رہی ہے وہ کسی ظلم سے کم نہیں۔ حکومت کو یہاں کئی دہائیوں سے رہنے والے لوگوں کی باز آبادکاری کے لیے پہلے انتظام کرنا چاہیے تھا۔

واضح رہے کہ احمد میونسپل کارپوریشن نے امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ سے پہلے موٹیرا اسٹیڈیم کے پاس رہنے والے تقریباً 45 خاندانوں کو جگہ خالی کرنے کا نوٹس دیا تھا۔ اس نوٹس کے بعد ان خاندانوں کے لیے پریشانیاں کافی بڑھ گئیں۔ حالانکہ اس سلسلے میں احمد آباد میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ نوٹس کا ٹرمپ کے دورہ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں، میونسپل کارپوریشن کے سربراہ وجے نہرا مبینہ طور سے جھگیوں کو چھپانے کے لیے بنائی گئی 600 میٹر اونچی دیوار کو بھی ٹرمپ کے دورہ سے جوڑ کر دیکھنے کو مسترد کر چکے ہیں۔