سوشل میڈیا کو مواد کے لئے جواب دہ ٹھہرانا ضروری:پارلیمانی کمیٹی

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق اور سیلف ریگولیشن نہیں ہے اور اس سمت میں ایک موثر طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سوشل میڈیا پر کوئی کنٹرول نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی نے کہا ہے کہ انہیں مواد کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پی پی چودھری کی سربراہی میں 'پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل' پر پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی نے پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ پانچ سو سے زائد صفحات کی رپورٹ میں تفصیلی تبصرے اور سفارشات شامل ہیں۔


رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق اور سیلف ریگولیشن نہیں ہے اور اس سمت میں ایک موثر طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں ڈیٹا اور پرائیویسی کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ڈیٹا قومی اہمیت کا اثاثہ ہے۔ دنیا کے 194 ممالک میں سے 132 نے ذاتی ڈیٹا اور ذاتی تحفظ کومحفوظ کرنے کے لئے ضابطے اور قوانین نافذ کئے ہیں۔


کمیٹی نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کواپنے صارفین سے اپنی شناخت ظاہرکرنے کے لئے کہناچاہیے اور رضاکارانہ تصدیق کو لازمی بناناچاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔