وانکھیڈے کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں عرضی داخل، نوکری سے برخاستگی کی مانگ

سمیر وانکھیڈے کے خلاف دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کی بات چھپا کر نوکری حاصل کی تھی اس لئے انہیں برخاست کیا جائے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

شاہ رخ خان کے بیٹےآرین خان کے ضمانتی آرڈر کے سامنے آنے کے بعد جہاں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی تھیوری کو جھٹکا لگا ہے وہیں این سی بی کے ممبئی میں زونل ڈاریکٹر سمیر وانکھیڈے کے لئے ایک نئی مشکل سامنے آئی ہے ۔ بامبے ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیونکہ سمیر وانکھیڈے نے اپنے مسلمان ہونے کی بات چھپائی تھی اس لئے انہیں سرکاری نوکری سے برخاست کیا جائے۔

آج تک نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق بامبے ہائی کورٹ میں داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ سمیر وانکھیڈے نے آئی آر ایس میں شامل ہونے کے دوران اپنے مذہب کی وضاحت نہیں کی تھی اس لئے انہیں فوری طور پر نوکری سے برخاست کیا جائے۔


واضح رہے یہ عرضی سماجی کارکن اشوک مہادیو کامبلے نے وکیل نتن ستپتے کے ذریعہ داخل کی ہے ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ سمیر وانکھیڈے نے اپنے مسلمان ہونے کی بات چھپا کر سیول سروسز میں نوکری حاصل کی تھی ۔ کامبلے کے وکیل نے کہا ہے کی اس معاملہ کو دیکھ رہی جانچ کمیٹی سے بھی وہ شکایت کر چکے ہیں۔

کامبلے نے عرضی میں کہا ہے کہ 1993 میں سمیر وانکھیڈے کے والد کا نام داؤد سے بدل کر دھیاندیو وانکھیڈے کیا گیا تھا لیکن وانکھیڈے کے مذہب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایسا کالج میں دلت کوٹہ میں داخلہ کے لئے کیا گیا تھا۔ عرضی میں سمیر وانکھیدے کے ذریعہ غلط معلومات دینے کے لئے کہا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔