سماجی کارکن محمد جنید اور شاداب سیفی کو سیاسی وجوہات کی بنا پر نشانہ بنایا جا رہا: شیوسینا یو بی ٹی

’سامنا‘ میں لکھا گیا کہ ’’انتظامیہ اس بات سے حیران ہے کہ معاشرے کے لوگوں نے مل کر اتنے بڑے پیمانے پر امدادی مہم کیسے چلائی، اس لیے جنید اور ان کے اہل خانہ کو پریشان کیا جا رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>محمد جنید (ویڈیو گریب)</p></div>
i

شیوسینا (یو بی ٹی) نے اپنے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے اداریے میں مرکز کی بی جے پی حکومت اور اتر پردیش پولیس کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ جنتر منتر پر نیٹ-یو جی امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف ہوئی تحریک کے دوران مظاہرین کو کھانا اور پانی فراہم کرانے والے سماجی کارکنان محمد جنید اور شاداب سیفی کو سیاسی وجوہات کی بنا پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اداریے میں دعویٰ کیا گیا کہ اتر پردیش پولیس نے جنید ہی نہیں بلکہ ان کے پورے خاندان کو بھی پریشان کیا۔ اس میں ان کے والدین، بہن اور سسرال کے لوگوں کو بھی کئی بار پولیس تھانوں میں لے جا کر تقریباً 12-12 گھنٹے تک بٹھائے رکھنے کا الزام عائد کیا گیا۔ پولیس یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ 35 دنوں تک چلنے والی اس امدادی مہم کے لیے پیسے کہاں سے آئے، جس کے ذریعہ روزانہ ہزاروں مظاہرین کو کھانا فراہم کیا گیا۔


شیوسینا (یو بی ٹی) نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے تحریک کو کمزور کرنے کے لیے احتجاجی مقام تک کھانے پینے کا انتظام روکنے کی کوشش کی۔ اداریے کے مطابق آس پاس کے ہوٹل، ٹھیلے اور کناٹ پلیس کے علاقے میں کھانا پہنچانے والی خدمات کو بھی بند کرانے کی ہدایات دی گئیں۔ اس کے باوجود پیر میں چوٹ ہونے کے بعد بھی محمد جنید مقامی سکھ لنگروں کے تعاون سے دن رات مظاہرین تک کھانا پہنچانے کا کام کرتے رہے۔

پارٹی نے الزام عائد کیا کہ حکومت انسانی مدد فراہم کرانے والوں کی تحقیقات میں پوری طاقت لگا رہی ہے، لیکن قومی سلامتی سے وابستہ سنگین معاملات میں ناکام رہی ہے۔ اداریے میں کہا گیا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے میں 26 سیاحوں کو قتل کرنے والے دہشت گردوں کا اب تک پتہ نہیں چل پایا اور پلوامہ حملے میں 40 جوانوں کی جان لینے والے آر ڈی ایکس کے ذرائع کا بھی آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ اس کے باوجود پوری سرکاری مشینری اس بات کی تحقیقات میں مصروف ہے کہ جنید کی کھانا کھلانے والی مہم کے لیے پیسے کہاں سے آئے، صرف اس لیے کیونکہ وہ داڑھی رکھتے ہیں اور ٹوپی پہنتے ہیں۔


’سامنا‘ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ انتظامیہ اس بات سے حیران ہے کہ معاشرے کے لوگوں نے مل کر اتنے بڑے پیمانے پر امدادی مہم کیسے چلائی، اس لیے جنید اور ان کے اہل خانہ کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح جنید کی مہم کے فنڈنگ کی جانچ ہو رہی ہے، اسی طرح حکومت اور سیاسی جماعتوں کے مالیاتی نظام میں بھی مکمل شفافیت ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی بی جے پی کے انتخابی فنڈ کی بھی آفیشیل تحقیقات کرانے کا مطالبہ اٹھایا۔

اداریے میں جنتر منتر تحریک کو ’تاناشاہی کے خلاف نوجوانوں کا وسیع اور زندہ دل جشن‘ قرار دیا گیا۔ پارٹی نے کہا کہ پولیس کی لاٹھی، پیلٹ گن، نکلیے ڈنڈوں اور آنسو گیس کا سامنا کرنے کے باوجود نوجوانوں کے چہرے پر درد نہیں تھا۔ سامنا کے اداریے میں شیوسینا (یو بی ٹی) نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک اور انسانی حقوق کے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ محمد جنید، شاداب سیفی اور دیگر زمینی سطح کے کارکنان کے خلاف مبینہ سرکاری کارروائی کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔