وادی کشمیر میں برف و باراں کا سلسلہ جاری، گلمرگ میں قریب 5 انچ تازہ برف جمع

وادی میں آج دن بھر رک رک کر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی میں قدرے اضافہ درج ہوا اور لوگ گرمی کے لئے کانگڑیوں، گرم لباس اور ہیٹروں کا استعمال کرنے پر مجبور ہوئے۔

کشمیر میں برف و باراں / یو این آئی
کشمیر میں برف و باراں / یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں گزشتہ تین دنوں سے رک رک کر برف و باراں کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی بڑھ گئی ہے۔ شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں دوران شب چار سے پانچ انچ تازہ برف جمع ہوئی ہے جس سے وہاں موجود سیاح لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق وادی میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران موسمی حالت جوں کی توں رہ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وادی میں 23 مارچ کو موسم زیادہ خراب رہ سکتا ہے، تاہم 24 مارچ سے موسم میں بہتری واقع ہوسکتی ہے۔ ادھر شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں حکام نے خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر منگل کو مڈل سطح تک کے اسکول بچوں کے لئے بند رکھے۔

گلمرگ میں تازہ برف باری / آئی اے این ایس
گلمرگ میں تازہ برف باری / آئی اے این ایس

چیف ایجوکیشن افسر کپوارہ کے دفتر سے جاری ایک حکمنامے میں کہا گیا کہ خراب موسمی حالات کے پیش نظر بچوں کے تحفظ کے لئے ضلع کے تمام مڈل سطح تک کے اسکول 23 مارچ یعنی منگل کے روز بند رہیں گے۔ وادی کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جوڑنے والی 270 کلو میٹر طویل سری نگر- جموں قومی شاہراہ بھی کئی مقامات پر مٹی کے تودے گر آںے کی وجہ سے منگل کو ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے بند رہی۔

متعلقہ حکام نے بتایا کہ بانہال، رام بن اور رامسو کے درمیان مٹی کے تودے اور چٹانیں کھسک آنے کے باعث قومی شاہراہ کو منگل کے روز ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے بند رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ قومی شاہراہ پر ٹریفک کی بحالی کا فیصلہ سڑک کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی لیا جائے گا۔


وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- لیہہ شاہراہ سال رواں کے یکم جنوری سے بند ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے ضلع پونچھ کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ پر گزشتہ قریب چار ماہ سے ٹریفک معطل ہے۔ دریں اثنا وادی میں منگل کے روز بھی دن بھر رک رک کر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی میں قدرے اضافہ درج ہوا اور لوگ گرمی کے لئے کانگڑیوں، گرم لباس اور ہیٹروں کا استعمال کرنے پر مجبور ہوئے۔ موسلا دھار بارشوں سے وادی کے شہر و گام کی سڑکیں، سڑکیں کم جھیل جھرنے زیادہ نظر آرہی ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ بارشوں سے سڑکوں پر بنے گڑھوں میں پانی جمع ہوا ہے اور گلی کوچے بھی زیر آب ہیں جس سے لوگوں کی نقل و حمل از حد متاثر ہو کے رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر رسیدہ افراد اور بچوں کا گھروں سے باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں ہے کیونکہ سڑکیں زیر آب بھی ہیں کیچڑ بھی اس قدر جمع ہے کہ کوئی بھی پھسل کر اسپتال پہنچ سکتا ہے۔


محمد یونس نامی ایک شہری نے بتایا کہ سڑکوں پر گڑھوں میں جمع پانی پر گاڑیاں چلتی ہیں تو ان سے اٹھنے والی چھینٹیں دور دور تک سفر کرنے والے لوگوں کا تعاقب کرکے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے حالات ایسے ہیں کہ بچے اسکول نہیں جا سکتے ہیں اور ملازمین دفتر نہیں جانے سے قاصر ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔