مایاوتی کی پریس کانفرنس میں دھواں پھیلنے سے افرا تفری، اکھلیش یادو کا تحقیقات کا مطالبہ
مایاوتی کی سالگرہ کے موقع پر لکھنؤ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران ایک بلب میں شارٹ سرکٹ سے دھواں پھیل گیا، جس سے افرا تفری مچ گئی۔ کسی کو نقصان نہیں ہوا، اکھلیش یادو نے جانچ کا مطالبہ کیا

لکھنؤ میں بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی کی پریس کانفرنس کے دوران اچانک اس وقت ہلچل مچ گئی جب کمرے میں لگے ایک بلب میں شارٹ سرکٹ کے باعث دھواں اٹھنے لگا۔ یہ واقعہ مایاوتی کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس کے آخری مرحلے میں پیش آیا۔ دھوئیں کے باعث کچھ دیر کے لیے صحافیوں اور پارٹی کارکنوں میں افرا تفری کی کیفیت پیدا ہو گئی، تاہم جلد ہی صورت حال پر قابو پا لیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی بلب سے دھواں نکلنا شروع ہوا، کمرے میں موجود افراد نے احتیاطاً اپنی نشستیں چھوڑ دیں۔ سکیورٹی عملہ اور پارٹی کے ذمہ داران فوراً متحرک ہوئے اور بجلی کی سپلائی بند کر دی گئی۔ چند ہی منٹوں میں دھواں چھٹ گیا اور یہ واضح ہو گیا کہ واقعہ صرف شارٹ سرکٹ تک محدود تھا۔ اس دوران مایاوتی مکمل طور پر محفوظ رہیں اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اسے سکیورٹی میں سنگین کوتاہی قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مایاوتی کے خطاب کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کی ہر پہلو سے جانچ ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورت حال سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق عوامی رہنماؤں کی حفاظت میں کسی بھی سطح پر لاپرواہی ناقابل قبول ہے۔
بہوجن سماج پارٹی کے ریاستی صدر وشوناتھ پال نے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پریس کانفرنس کے آخری حصے میں ایک بلب اچانک خراب ہو گیا، جس کے بعد تار میں شارٹ سرکٹ ہوا اور جلنے کی وجہ سے دھواں پھیل گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو آگ لگی اور نہ ہی کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان ہوا۔ ان کے مطابق مایاوتی سمیت وہاں موجود تمام افراد مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
واضح رہے کہ مایاوتی کی سالگرہ کے موقع پر پارٹی کی جانب سے پورے اتر پردیش میں یومِ فلاح عامہ کے طور پر تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں۔ لکھنؤ میں ہونے والی یہ پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، جو شارٹ سرکٹ کے اس اچانک واقعے کے باعث کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی، تاہم بعد میں حالات معمول پر آ گئے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔