غیر اسمارٹ منصوبہ ثابت ہوا مودی کا ’اسمارٹ سٹی منصوبہ‘

قومی راجدھانی دہلی کے وگیان بھون میں سال 2015 میں وزیر اعطم نریندر مودی نے ملک کے 100 شہروں کو اسمارٹ بنانے کا وعدی کیا تھا، 3 سال گزر چکے ہیں لیکن ایک بھی شہر اسمارٹ نہیں بن سکا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مرکز کی مود ی حکومت نے بڑے بڑے دعوں کے ساتھ ملک کے سو شہروں کو اسمارٹ بنانے کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ انہیں ترقی کے ایسے ماڈل کے طور پر ڈیولپ کرنے کا خواب دکھایا گیا جو ملحقہ علاقوں کو بھی گلزار بنا دیں، لیکن اس منصوبہ کا بھی وہی انجام ہوا جو مودی کے دوسرے بڑے بڑے وعدوں کا ہوا۔ کاغذ پر حکومت کچھ بھی ظاہر کرے لیکن حقیقت میں ہوا کچھ بھی نہیں ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اسمارٹ سٹی منصوبہ کا بہار میں کیا حشر ہوا:

ہوگا-بنے گا- دیکھے گا...سنتے سنتے عاجز آ گئے لوگ

وزیر اعظم نریندر مودی کی اسمارٹ سٹی اسکیم میں شامل ہونے کے لئے بہار کے شہروں نے کافی مشقت کی تھی لیکن پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے ساتھ ہی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ بہار کے دار الحکومت پٹنہ میں بہار اسمبلی سے کچھ ہی دور اسمارٹ سٹی میں شامل علاقہ ہے لیکن یہاں آج بھی لوگ کھلے میں رفع حاجت کے لئے جاتے ہیں۔ سیور کا پانی یہاں وہاں بہتا رہتا ہے، کوڑے کا پہاڑ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس ماحول میں بدبو کے درمیان لوگ سنتے- پڑھتے آئے ہیں کہ اسمارٹ سٹی ایسی ہوگی، ویسی ہوگی، یہاں یہ بنے گا، وہاں وہ بنے گا، لیکن زمین پر کچھ نہیں ہو رہا ہے۔

اسمارٹ سٹی کے انتخاب میں بھی پٹنہ کافی پیچھے تھا۔ فہرست میں آنے کے لئے پٹنہ میونسپل کارپوریشن نے زبردست مہم چلائی تھی۔ تمام تر نشیب و فراز کے بعد آخر کار تیسرے مرحلہ میں پٹنہ اسمارٹ سٹی منصوبہ میں شامل کرا لیا گیا۔ دو لاکھ 94 ہزار گھروں کے علاوہ سڑک کنارے، پُل کے نیچے، فٹ پاتھ اور جھونپڑیوں میں بسے 16.84 لاکھ سے زیادہ آبادی والے پٹنہ کے تین کلومیٹر کے حصے کو ’ایریا بیسڈ ڈیولپمنٹ ‘ کے لئے چنا گیا۔

مہاگٹھ بندھن کی مقبولیت کے سہارے جیت کر آئے نتیش کمار پہلے تو اس منصوبہ کے خلاف بیان دے رہے تھے لیکن جوں ہی انہوں نے بی جے پی کا دامن تھاما تو اسمارٹ سٹی کے کام میں تیزی آنے کی امید جاگی لیکن وہ امید ابھی تک پروان نہیں چڑھ سکی۔

پٹنہ میں اس منصوبہ کے تحت 2499 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ پانچ پروجیکٹوں کا کام 15 دسمبر تک شروع ہونا تھا لیکن تکنیکی عمل پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ 2019 تک موخر ہوگیا۔ ابتدائی طور پر تمام 75 وارڈوں میں عوامی سہولیات مرکز، ویر چند پٹیل پتھ اسمارٹ روڈ پروجیکٹ، عدالت گنج تالاب کی ترقی اور گاندھی میدان میں میگا اسکرین لگانے کا ٹینڈر فائنل ہونے کے بعد بھی 2018 میں کام شروع نہیں ہو سکا۔

افسران کہتے ہیں کہ راجدھانی کے ہر علاقہ کو اسمارٹ کنٹرول ایک کمانڈ سینٹر سے جوڑا جائے گا تاکہ ٹریفک کی لائیو مانیٹرنگ کی جا سکے۔ حالانکہ ابھی تک نصب ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں سے کیا حاصل ہوا افسران یہ بتانے سے قاصر ہیں۔

افسران کہتے ہیں گاندھی میدان کے آس پاس ایک دو سال میں بہت کچھ نظر آئے گا۔ گاندھی میدان کو جانے والی 16 سڑکوں کو اسمارٹ بنایا جائے گا۔ اس کام میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے اس کے جواب میں افسران کہتے ہیں کہ پہلا ٹینڈر فیل ہو گیا لہذا دوسرا ٹینڈر نکالا جائے گا۔

  • مظفرپور میں اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کی حالات نہایت ہی خراب ہیں۔ شہر کی خوبصورتی کے لئے لائے جانے والے 9 ڈی پی آر (ڈیولپمنٹ پروجیکٹس) منظور نہیں ہو سکے ہیں۔ جب اس کی خبر شہری ترقی کے وزیر تک پہنچی تو انہوں نے کنسلٹنٹ کو تبدل کرنے کا انتباہ دے دیا۔ ادھر شہر کمشنر نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اعلان کر دیا کہ اب کنسلٹنٹ کے سی او اپنی نگرانی میں پروجیکٹ کو مکمل کرائیں گے۔
  • بھاگلپور میں اسمارٹ سٹی کی حالت عجیب و غریب ہے۔ کام ہوتا ہوا تو نظر نہیں آتا، ہاں فنڈ میں الٹ پھیر کی بات ضرور سامنے آئی ہے۔ بھاگل پور اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے موجودہ صدر نے ضلع مجسٹریٹ سے کہا کہ وہ اسمارٹ سٹی سے منسلک کیش بک، بینک اسٹیٹمنٹ اور سال بھر میں کی گئی ادائیگی سے متعلق فائلوں کو جانچ کرائیں۔ اس کے لئے ایک تین رکنی ٹیم بھی قائم کر دی گئی ہے۔
  • بہار شریف میں صورت حال قدر بہتر نظر آتی ہے، کیوںکہ امید نہ کے برابر ہونے کے باوجود میونسپل کارپوریشن اور یہاں کے باشندگان نے پوری طاقت لگاکر اس شہر کو اسمارٹ سٹی میں شامل کرایا۔ یہاں 5 مربع کلومیٹر کے علاقہ کو ڈیولپ کیا جانا ہے۔ اس کے لئے 1517 کروڑ روپے کے پروجیکٹ منظور کیے گئے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہاں پر کئی پروجیکٹوں پر کام ہوتا نظر بھی آ رہا ہے۔