جامعہ ملیہ اسلامیہ: مظاہرین طلباء کی ’غنڈوں‘ نے کی پٹائی، ماحول کشیدہ، سیکورٹی سخت

طلباء کا کہنا ہے کہ وہ پرامن مظاہرہ کر رہے تھے جب یونیورسٹی انتظامیہ نے غنڈے بھیج کر پٹائی کر وا دی۔ حالانکہ انتظامیہ نے اس بات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لڑائی طلباء کے دو گروپ کے درمیان ہوئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مشہور و معروف یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منگل کی شام اس وقت کافی ہنگامہ دیکھنے کو ملا جب مظاہرہ کر رہے طلباء کو کچھ لوگوں نے پیٹنا شروع کر دیا۔ یونیورسٹی طلبا انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ اچانک کچھ غنڈہ صفت لوگوں نے آکر انھیں پیٹنا شروع کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مار پیٹ میں کئی طلباء زخمی ہو گئے جن میں کچھ کا علاج قریب کے ہولی فیملی ہاسپیٹل میں چل رہا ہے۔ اس واقعہ سے طلبا مشتعل ہو گئے اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ حالانکہ انتظامیہ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ طلباء کی پٹائی کے لیے انھوں نے کسی کو بھیجا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈسپلن شکنی کی وجہ سے 5 طلباء کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا تھا، لیکن جواب دینے کی جگہ انھوں نے نوٹس کی کاپیوں کو جلا دیا اور ڈسپلنری کمیٹی کا بائیکاٹ بھی کیا جس کے تئیں وہ لوگ جوابدہ تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایڈمنسٹریشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ طلباء ہنگامہ آرائی کر رہے تھے، اسی درمیان ایک دوسرے گروپ سے ان کی لڑائی ہو گئی اور یونیورسٹی انتظامیہ کا اس تصادم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس درمیان بدھ کے روز جامعہ کا ماحول کافی کشیدہ بتایا جا رہا ہے۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو اس لیے پولس کے ذریعہ سخت سیکورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ منگل کے روز جامعہ کے انگلش ڈپارٹمنٹ میں ایک سمینار تھا۔ جب سمینار میں شامل لوگ واپس جا رہے تھے تو مظاہرہ کر رہے طلباء نے ان کا راستہ روکا، اسی درمیان کچھ دوسرے گروپ کے طلباء آئے اور ان کی آپس میں مار پیٹ ہو گئی۔ لیکن طلباء اس بات کی پوری طرح تردید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے غنڈوں کو بھیج کر قصداً ان کی پٹائی کروائی۔

طلبا اس پورے معاملے میں بتاتے ہیں کہ وہ تو 5 طلباء کو ملے ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ کی مخالفت میں پرامن مظاہرہ کر رہے تھے تبھی انتظامیہ کے لوگ آئے اور بیلٹ و گملے اٹھا کر طلبا کو مارنے لگے۔ پٹائی سے ناراض طلبا کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتظامیہ کے ذریعہ بھیجے گئے غنڈوں نے لڑکیوں کے ساتھ بھی بدسلوکی کی۔

دیکھا جائے تو یہ پورا معاملہ صرف منگل کا نہیں ہے، بلکہ کئی دنوں پہلے سے ہی طلباء ایک کانفرنس کو لے کر یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔ دراصل گزشتہ 5 اکتوبر کو جامعہ میں گلوبل کانفرنس ہوئی تھی جس کے بارے میں طلباء کا کہنا ہے کہ اسرائیل ’کنٹری پارٹنر‘ تھا۔ طلباء اسی بات سے ناراض تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو کسی پروگرام کا ’کنٹری پارٹنر‘ بنا کر یونیورسٹی انتظامیہ نے جامعہ کی روح کو پامال کیا ہے۔ اس سلسلے میں طلبا کے گروپ، طلبا یونین لیڈر اور ٹیچر ایسو سی ایشن کی جانب سے کئی میٹنگیں بھی ہوئیں تاکہ معاملہ حل ہو سکے۔ لیکن جب یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں میں شامل 5 طلبا کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا تو طلباء کا ایک بڑا گروپ ناراض ہو گیا اور احتجاجی مظاہروں کا دور شروع ہو گیا۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق طلباء کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ کے تئیں کافی غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جامعہ کیمپس میں سیکورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو سکے۔ معاملے کی جانچ میں اب پولس بھی شامل ہو گئی ہے کیونکہ کچھ طلباء نے باضابطہ پولس میں یہ شکایت کی ہے کہ انھیں باہری لوگوں نے پیٹا۔ دہلی کے ڈی سی پی ساؤتھ ایسٹ نے اس سلسلے میں میڈیا کو بتایا کہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کے ذریعہ ایک شکایت داخل کی گئی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی ہدایت پر کچھ لوگوں نے کل ان پر حملہ کیا جب وہ پانچ طلباء کو جاری کیے گئے نوٹس کی مخالفت کر رہے تھے۔‘‘

Published: 23 Oct 2019, 1:11 PM