بہادر گگن دیپ مسلمان کو بچانے کی سزا بھگت رہے ہیں! 

بی جے پی رکن اسمبلی راج کمار ٹھکرال کے اشتعال انگیز بیان سے رام نگر کی فضا مکدرہو گئی ہے وہ فساد کروانے کے لئے پہلے ہی سے بدنام ہیں۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

رام نگر (نینی تال):ملک میں بڑھتی شدت پسندی کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ ہفتہ ایک مسلم نوجوان کو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سے بچانا ایک پولس والے کو بھاری پڑ گیا ہے۔ ہجوم کے سامنے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا فرض نبھانے والے دروغہ گگن دیپ سنگھ کو نامعلوم مقام پر بھیج دیا گیاہے ۔ نینی تال کے ایس ایس پی جنمی جے کھنڈوری کے مطابق وہ چھٹی پر ہیں اور کچھ وقت بعد لوٹ آئیں گے۔ گرجیا جو ایک سیاحتی مقام ہے وہاں مسلمانوں کے جانے پر روک لگا دی گئی ہے ،حالات کشیدہ ہیں اور وہاں پی اے سی تعینات کر دی گئی ہے۔

رُدر پور کے فرقہ وارانہ فساد کے لئے بدنام بی جے پی رکن اسمبلی راج کمار ٹھکرال رام نگر میں فعال ہیں اور انہوں نے کھلے عام اعلان کر دیا ہے کہ ’ہمارے لڑکوں نے صرف دو تھپڑ ہی مارے تھے، جس کا بات کا بتنگڑ بنایا گیا ہے ، اب کوئی غیر ہندو وہاں جائے گا تو ٹھیک سے واپس نہیں لوٹےگا۔ ‘

بی جے پی رکن اسمبلی راج کمار ٹھکرال کے اشتعال انگیز بیان سے رام نگر کی فضا مکدرہو گئی ہے وہ فساد کروانے کے لئے پہلے ہی سے بدنام ہیں۔ 2011 رُدرپور کے فساد میں ان کا اہم کردار تھا اسی لئے ان پر معاملہ بھی درج کیا گیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ حال ہی میں بی جے پی حکومت نے ان کے خلاف چل رہے مقدمہ کو واپس لے لیا ہے۔ رُدرپور میں 2 اکتوبر 2011 کو ہوئے فساد میں 3 افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ اسمبلی انتخاب کے لئے فساد بھڑکانے کا منصوبہ بنایا تھا۔اس کے بعد ٹھکرال الیکشن جیت گئے تھے ۔فساد کے بعد یہاں کے اقلیتی طبقہ نے ہجرت اختیارکر لی تھی، رام نگر کے فیصل انصاری کے مطابق اس وقت مسجد کے باہر قرآن کریم کے پھٹے ہوئے صفحات گندگی میں پھینکے گئے جو کہ ایک گہری سازش کا نتیجہ تھی۔

رام نگر کے امن پسند لوگ کہتے ہیں کہ رُدر پور فساد کے بعد ضلع ادھم سنگھ نگر اور ملحقہ علاقوں میں مذہبی نفرت میں اضافہ ہو ا تھا۔گرجیا کا واقعہ اسی 6 سال پرانی نفرت کانتیجہ ہے، علاقے کی ہندو تنظیموں کو بی جے پی کے رکن اسمبلی راج کمار ٹھکرال کی پشت پناہی حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ ٹھکرال مسلم نوجوان پر حملہ کرنے والے غنڈوں کی حمایت میں کھڑے ہیں۔

نینی تال کے ایک پولس ذرائع کا کہنا ہے کہ رام نگر میں رکن اسمبلی ٹھکرال کے دباؤ کی وجہ سے ہی داروغہ گگن دیپ سنگھ کو طویل تعطیل پربھیجا گیا ہے۔ گگن دیپ سنگھ وہی شخص ہیں جنہوں نے ایک مسلم نوجوان کی جان بچاکر سرخیوں میں آئے تھے اور ملک اور غیر ممالک میں بھی ان کی تعریف ہوئی تھی، نینی تال کے ایس ایس پی جنمی جے کھنڈوری نے انہیں ڈھائی ہزار روپے کا انعام بھی دیا ۔ بس یہیں سے گگن دیپ سنگھ ہندووادی طاقتوں کی آنکھوں میں چبھنے گئے۔

راج کمار ٹھکرال کا کہنا ہے کہ کہ اگر پولس ’لو جہادیوں ‘ کا دماغ ٹھیک نہیں کر ے گی تو ہندؤوں کی سینا انہیں سبق سکھائے گی۔ٹھکرال کے اس بیان سے رام نگر کے لوگوں میں ناراضگی ہے، اس لئے وہاں کے لوگ رکن اسمبلی کے خلاف ماحول بگاڑنے کی تحریری شکایت لے کر رام نگر تھانے پہنچ گئے، ان لوگوں میں سے ایک سماجوادی ایکتا منچ کے منیش کمار بھی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مقامی رکن اسمبلی نے حملہ آوروں کی حمایت کی اور انہیں مستقبل میں بھی ایسی واردات انجام دینے کے لئے راغب کرایا، جو کہ ایک جرم ہے، ہم نے راج کمار ٹھکرال کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ وہ لگاتار اس علاقہ کو آگ میں جھونکنے کی سازش کر رہے ہیں۔‘‘

رام نگر کے کوتوال وکرم سنگھ راٹھور کے مطابق تحریر لے لی گئی ہے اور ایس آئی کشمیر سنگھ اس کی جانچ کر رہے ہیں، جانچ منصفانہ ہو پائے گی اس پر لوگوں کو شبہ ہے، ایس آئی گگن دیپ سنگھ کے حالات سے پولس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، گرجیا کے مندر میں سر عام ایک نوجوان پر حملہ کرنے والے ہندووادی تو عیش کر رہے ہیں اور اپنا فرض پوری ایمانداری سے انجام دینے والے گگن دیپ کو روپوش کر دیا گیا ہے۔ رام نگر کے پربھات دھیانی کے مطابق ’’ان حالات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کی قانون بی جے پی رکن اسمبلی کے ہاتھوں کا کھلونا بنا ہوا ہے۔ ‘‘

گگن دیپ سنگھ 6 مہینے سے رام نگر تھانے میں تعینات ہیں ، انہوں نے 22 مئی کو عرفان نامی مسلم نوجوان کو ہندووادیوں کے مشتعل ہجوم سے بچایا تھا۔ 25 مئی سے دنیا بھر میں ان کی تعریفیں ہونے لگیں اور 26 مئی سے ان کا فون بند جا رہاہے، اتراکھنڈ پولس ذرائع کے مطابق گگن دیپ سنگھ کافی دباؤ میں ہیں۔ گگن دیپ سنگھ کا گھر جس پور (اودھم سنگھ نگر) میں ہے ، ان کے خاندان کے افراد بھی پریشان ہیں۔ گگن دیپ سنگھ کے والد کی اس وقت موت ہو گئی تھی جب وہ محض 5 سال کے تھے، بہن کی شادی کے بعد ان کے خاندان میں اب صرف ماں ہی بچی ہیں۔

گگن دیپ سنگھ نے اپنا فرض بہادری اور ایمانداری سے انجام دیا ، ان کا دباؤ میں ہونا تشویش کا باعث ہے۔ مقامی سکھ طبقہ میں اس کے تئیں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ادھم سنگھ نگر کو مِنی پنجاب کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس لئے معاملہ نے وہاں سیاسی روپ اختیار کر لیا ہے۔ مقامی رہائشی نوجوان گرپریت سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’گگن دیپ سنگھ نے اپنا فرض نبھایا اور اسے دھمکیاں ملنے لگیں، وہ اس وقت ذہنی دباؤ میں ہے۔ مقامی رکن اسمبلی خود حملہ آوروں کی حمایت کر رہے ہیں ، اس لئے ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ، جبکہ الٹے گگن دیپ کو سزا مل رہی ہے۔‘‘ اتراکھنڈ کا ڈی جی پی دفتر اس معاملے میں ابھی تک خاموش ہے، حالانکہ گگن دیپ سنگھ کو مل رہی دھمکیوں سے انکار کیا ہے۔

next