آئی ایم اے جعلسازی معاملے میں ملزم محمد منصور خان دہلی سے گرفتار

ایس آئی ٹی کے حکام نے حال ہی میں آئی ایم اے کے بانی اور ملزم محمد منصور خان کا دبئی میں پتہ لگایا اور اسے ہندوستان واپسی اور خود سپردگی کے لئےراضی کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بنگلورو: کرناٹک کے خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے حکام نے کروڑوں روپے کے آئی مانٹري ایڈوائزری (آئی ایم اے) جعلسازی معاملے کے اہم ملزم محمد منصور خان کو جمعہ کی صبح نئی دہلی میں گرفتار کر لیا ۔

ایس آئی ٹی کے حکام نے حال ہی میں آئی ایم اے کے بانی اور ملزم محمد منصور خان کا دبئی میں پتہ لگایا اور اسے ہندوستان واپسی اور خود سپردگی کے لئےراضی کیا۔ محمد منصور آج علی الصبح ایک بجکر 55 منٹ پر نئی دہلی پہنچا۔ ایس آئی ٹی کے افسران اس کی گرفتاری کے لئے پہلے سے ہی دہلی میں موجود تھے۔

ایس آئی ٹی کے اعلی ذرائع نے یہاں کہاکہ ’’ایس آئی ٹی اور ای ڈی نے اس کے خلاف لک آؤٹ سرکلر (ایل او سی) جاری کیا تھا۔ اب اسے کچھ وقت میں بنگلور لایا جائے گا‘‘۔ منصور خان روپوش ہو کر دبئی چلا گیا تھا۔ اس نے گھپلے میں کچھ لیڈروں اور حکام کے ملوث ہونے كی بات کرتے ہوئے ویڈیو بھیجے تھے اور کہا تھا کہ وہ ہندوستان واپس آنے کے لئے تیار ہے اور لوگوں سے لی گئی رقوم کو سود کی اونچی شرحوں پر ادا کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔

اب تک ایس آئی ٹی اور ای ڈی کے حکام اس معاملے میں کانگریس ممبر اسمبلی روشن بیگ اور وزیر ضمیر خان سے بھی پوچھ گچھ کرچکے ہیں۔ محمد منصور خان نے اپنے ویڈیو میں سینئر کانگریس لیڈر الرحمن خان کا بھی نام لیا تھا۔ کروڑوں روپے کی اس جعلسازی کا شکار ہونے والوں نے محمد منصور خان کے خلاف 40،000 سے زیادہ مجرمانہ شکایات درج کرائی ہیں۔

محمد منصور خان رمضان کے مہینے میں اپنی کمپنی آئی ایم اے کو بند کرنے کے بعد ملک سے فرار ہوگیا تھا۔ ایس آئی ٹی کے حکام نے دبئی میں اس کا پتہ لگانے کے بعد اسے ہندوستان واپس آنے کے لئے راضی کیا تھا اور اس کے لئے کاغذات تیار کرانے میں بھی اس کی مدد کی تھی۔

محمد منصور خان پر تقریباً 60،000 لوگوں کے کم از کم 1410 کروڑ روپے کی جعلسازی کا الزام ہے۔ آئی ایم اے نے 4000 کروڑ روپے سے زیادہ کا لین دین کیا تھا۔ اب تک ایس آئی ٹی نے آئی ایم اے اور منصور خان سے متعلق 209 کروڑ روپے کی املاک ضبط کی ہے۔