آرین خان سےایس آئی ٹی نے آدھی رات تک پوچھ تاچھ کی

ایس آئی ٹی نے شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان سے منشیات، دوستوں اور حراست میں این سی بی کے اس کے ساتھ برتاؤ کے تعلق سے سوال پوچھے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نیوز 18 پر شائع خبر کے مطابق بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان جمعہ کی شام این سی بی کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے جو منشیات پر کروز کیس کی تحقیقات کر رہی ہے، اور ان کا بیان گھنٹوں تک ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے پہلے دن میں، آرین ممبئی ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے دفتر میں ہفتہ وار حاضری کے لیے گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ بعد میں آرین خان نوی ممبئی میں این سی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سنجے کمار سنگھ کی سربراہی والی ایس آئی ٹی کے سامنے پیش ہوااورایس آئی ٹی نے آدھی رات تک ان سے پوچھ تاچھ کی ۔ ذرائع نے بتایا کہ آرین سے ان حالات کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی جس میں وہ کروز پر سوار ہوا، منشیات فراہم کرنے والوں سے اس کے روابط، اور اس کے ہم عمر گروپ اور ان کی منشیات سے متعلق عادات اور ترجیحات کے بارے میں پوچھا گیا۔


نیوز 18 کے پورٹل پر شائع خبر کے مطابق این سی بی کے ڈی ڈی جی گیانیشور سنگھ نے کہا "ہماری تحقیقات جاری ہے اور ہم اسے سب سے زیادہ ترجیح دے رہے ہیں… ہم اسے جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ابھی کچھ اہم لوگوں کو تحقیقات میں شامل کرنا ہے۔"

آرین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس سے یہ بھی سوال پوچھے گئے کہ سمیر وانکھیڈے کی قیادت والی سابقہ ​​تحقیقاتی ٹیم نے اس سے کس طرح تفتیش کی اورکیا حراست کے دوران اسے یا اس کے خاندان کو رشوت دینے پر مجبور کیا گیا تھا؟ ایس آئی ٹی کی آرین کے لیے سوالات کی فہرست میں اس کے پلان کی تفصیلات اور اسے کروز اور اس کے سفری راستے کے بارے میں کیسے پتہ چلا۔ اس کے علاوہ، اگر اس نے جہاز پر منشیات لینے کا منصوبہ بنایا تھا یا جہاز پر منشیات فراہم کی گئی تھیں۔ ذرائع نے بتایا کہ آرین کو منشیات سے متعلق تمام الزامات کو مسترد کرنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا جیسا کہ ان کے وکلاء نے اپنی ضمانت کی درخواست کے دوران عدالت میں کیا تھا۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ چھاپے کے دوران آرین کےپاس سے کوئی ممنوعہ چیز نہیں ملی تھی ۔


سوالات میں، ان کی وہ وہاٹس ایپ چیٹس بھی تھیں جن کا حوالہ وانکھیڈے کی ٹیم نے عدالت میں ان کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے پیش کی تھیں۔ این سی بی نے آرین کے چیٹس کے ٹرانسکرپٹس کا استعمال کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ وہ ایک بین الاقوامی منشیات فروشی کے گینگ کا حصہ تھا اور ایک ’بڑی سازش‘ کا بھی حصہ ہے ۔

سمیر وانکھیڈے، جو کہ جبری وصولی کے الزام میں خود تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں، اس ٹیم کا حصہ نہیں تھے جس نے جمعہ کو آرین سے پوچھ تاچھ کی تھی۔


ایس آئی ٹی کم از کم چھ معاملات کی جانچ کر رہی ہے جس میں ڈرگ آن کروز کیس بھی شامل ہے۔ این سی بی نے 2 اکتوبر کو ممبئی کے ساحل پر ایک کروز شپ پر چھاپہ مارا تھا اور منشیات ضبط کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ چھاپے کے دوران آرین خان اور کئی دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ ٹیم گزشتہ ہفتے دہلی سے ممبئی پہنچی تھی اور اس نے پربھاکر سیل سمیت کچھ اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں جنہوں نے این سی بی حکام کے خلاف جبری وصولی کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔