’سسودیا نے مقدمے کی معلومات چھپائی!‘ الیکشن رد کرنے کی عرضی دائر

منیش سسودیا پر اسمبلی انتخابات کے لیے دائر حلف نامہ میں معلومات چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کا الیکشن رد کرنے کے لیے راشٹر وادی پارٹی کے صدر پرتاپ چندر نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا پر اسمبلی انتخابات کے لیے دائر حلف نامہ میں مقدمے کی معلومات ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کا الیکشن رد کرنے کے لیے راشٹر وادی پارٹی کے صدر پرتاپ چندر نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔

چندر نے جمعرات کو بتایا کہ حالیہ ہونے والے دہلی اسمبلی انتخابات میں وہ بھی امیدوار تھے۔ درخواست گزار نے پٹیشن میں لکھا ہے کہ پٹپڑ گنج اسمبلی سے الیکشن لڑنے کے لیے جمع کے گئے حلف نامے میں سسودیا نے اپنے خلاف قومی پرچم کو کفن بنا کر جلانے کے معاملے میں قومی شناخت کے تحفظ کے قانون 1971 کے تحت درج مقدمے کو نہیں ظاہر نہیں کیا۔

انہوں نے کہا جبکہ ریپریزنٹیشن آف دی پیپل (آرپی)ایکٹ1951 کی دفعہ 33 اے کے تحت چارج شیٹ ہو جانے پر انتخابی حلف نامے میں معلومات دینا لازمی ہے۔

یہ معاملہ نند نگری تھانے میں 2013 میں دائر ہوا تھا۔ دہلی پولیس کے ایڈیشنل پولیس ڈپٹی کمشنر نے خط کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ اس مقدمے میں فرد جرم تیار ہو گیا ہے اور تھانہ انچارج نندنگري کو ہدایت دی گئی ہے کہ چارج شیٹ کو جلد عدالت میں داخل کریں تاکہ مقدمہ شروع ہو۔

عرضی میں سسودیا کا الیکشن ردکرنے کے لیے دوسری بنیاد آرپی 1951 کی دفعہ 126 کے تحت انتخابی مہم پولنگ سے 48 گھنٹے پہلے پارٹی-امیدوار کا بند ہو جانا چاہئے لیکن عام آدمی پارٹی (اےا ےپی) کے انتخابی نشان جھاڑو کی تشہیر ووٹنگ والے دن بھی دہلی کے کئی بس اسٹینڈ، بورڈ، بیت الخلاء پر نظر آرہے تھے۔