ایس آئی آر سروے نے 15 سال پہلے گھر چھوڑ کر گئے شخص کو خاندان سے ملوایا
اوم پرکاش نے دہلی میں اپنا نام سلیم رکھ لیا اور اسی شناخت سے انہوں نے آئی ڈی بھی حاصل کر لی۔ انہوں نے شاہ بانو سے شادی کی اور آج ان کی 4 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ 3 بیٹیوں کی شادی بھی ہو چکی ہے

اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) سروے کے دوران اتر پردیش کے بریلی میں ایک ایسا انوکھا اور جذباتی معاملہ سامنے آیا جس نے پورے گاؤں کو جہاں حیران کر دیا وہیں خوشیوں سے بھی بھر دیا۔ یہ معاملہ اوم پرکاش سے متعلق ہے، جو 40 سال پہلے گھر چھوڑنے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے اور دہلی میں ’سلیم‘ نام سے رہ رہے تھے، سروے کے دوران جب ان سے کاغذات مانگے گئے تو اچانک اپنے آبائی گاؤں کاشی پور (تھانہ شاہی علاقہ) لوٹ آئے۔
ان کی واپسی سے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اہل خانہ نے بینڈ باجے اور پھول مالاؤں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ اوم پرکاش نے بتایا کہ وہ 15 سال کی عمر میں گھر چھوڑ کر دہلی چلے گئے تھے اور اس کے بعد کبھی انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
’آج تک‘ کے مطابق دہلی کے عثمان پور علاقے میں رہتے ہوئے انہوں نے اسلام قبول کیا، اپنا نام سلیم رکھ لیا اور اسی شناخت سے انہوں نے آئی ڈی بھی حاصل کر لی۔ دہلی میں انہوں نے شاہ بانو (سائرہ بانو) سے شادی کی اور آج ان کی 4 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ 3 بیٹیوں کی شادی بھی ہو چکی ہے۔
ایس آئی آر سروے کے دوران جب ان سے پیدائش کے دستاویزات اور اصل شناختی ریکارڈ مانگے گئے تو وہ دہلی میں اپنے نام اور دستاویزات کے بارے میں الجھن میں پڑ گئے۔ ان کا ریکارڈ تصدیق سے میل نہیں کھا رہا تھا۔ مجبوری میں انہوں نے اپنے گاؤں سے ثبوت لانے کا فیصلہ کیا اور 40 سال بعد وہ پہلی بار اپنے گاؤں پہنچے۔ گاؤں میں ان کے پہنچتے ہی ان کی بہنوں اور رشتہ داروں نے گلے لگا کر استقبال کیا۔ گاؤں والوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اس موقع پر گاؤں میں جشن کا ماحول نظر آ رہا تھا۔
اس دوران اوم پرکاش نے کہا کہ وہ دہلی میں ایک ٹینٹ ہاؤس کا کام کر رہے تھے اور اب گاؤں میں مستقل طور پر رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ گاؤں سے ہی اپنا نام اور شناختی دستاویزات حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایس آئی آر سروے کی وجہ سے سامنے آنے والا یہ معاملہ سماجی اور انتظامی دونوں سطحوں پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ گاؤں والے اسے ایک ’چمتکار‘ جیسا بتا رہے ہیں کہ 40 سال بعد ایک کھویا ہوا بیٹا دستاویزات کی وجہ سے ہی سہی، لیکن گھر واپس آ گیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔