ایس آئی آر کا دوسرا مرحلہ: 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 6.5 کروڑ نام فہرستوں سے خارج

ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے میں 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقریباً ساڑھے چھ کروڑ ووٹروں کے نام مسودہ فہرستوں سے خارج ہو گئے

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن / یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

الیکشن کمیشن کی جانب سے نو ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کرائی جا رہی خصوصی گہری نظر ثانی یعنی ایس آئی آر کے تحت تقریباً ساڑھے چھ کروڑ ووٹروں کے نام مسودہ ووٹر فہرستوں سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ ان بارہ ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں میں 27 اکتوبر کو یہ عمل شروع ہوا تھا، اس وقت مجموعی طور پر 50 کروڑ 90 لاکھ ووٹر درج تھے، تاہم مختلف ریاستوں کی شائع شدہ مسودہ فہرستوں کے مطابق اب یہ تعداد کم ہو کر 44 کروڑ 40 لاکھ رہ گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے افسران کے مطابق جن ووٹروں کے نام فہرستوں سے نکالے گئے ہیں، انہیں غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ یا دوہرے اندراج کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ ایک معمول کا انتظامی عمل ہے، جس کا مقصد ووٹر فہرستوں کو درست اور تازہ رکھنا ہے تاکہ آئندہ انتخابات شفاف انداز میں منعقد ہو سکیں۔

کمیشن کے پہلے جاری کردہ رجحانات کے مطابق ایس آئی آر کے تحت شہری علاقوں میں شمار کے فارم جمع کرنے کی شرح دیہی علاقوں کے مقابلے میں خاصی کم رہی ہے۔ اس صورتحال نے بھی کئی مقامات پر فہرستوں میں بڑی تعداد میں نام خارج ہونے میں کردار ادا کیا ہے۔


اتر پردیش میں ایس آئی آر کے بعد منگل کو شائع کی گئی مسودہ ووٹر فہرست میں 2 کروڑ 89 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں، جس کے بعد ریاست میں ووٹروں کی مجموعی تعداد 12 کروڑ 55 لاکھ رہ گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق پہلے درج 15 کروڑ 44 لاکھ ووٹروں میں سے تقریباً 18.70 فیصد نام موت، مستقل نقل مکانی یا ایک سے زائد اندراج کی بنیاد پر شامل نہیں کیے جا سکے۔

ایس آئی آر کا دوسرا مرحلہ چار نومبر کو انڈمان و نکوبار جزائر، لکشدیپ، چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، کیرالہ، مدھیہ پردیش، پڈوچیری، راجستھان، تمل ناڈو، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں شروع ہوا۔ آسام میں اس کے علاوہ ووٹر فہرستوں کی ایک الگ خصوصی نظر ثانی کا عمل جاری ہے۔

کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ریاستوں میں 2003 میں کی گئی خصوصی گہری نظر ثانی کو ایک بنیاد کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جیسا کہ پہلے بہار میں بھی کیا گیا تھا۔ زیادہ تر ریاستوں میں آخری مرتبہ یہ عمل 2002 سے 2004 کے درمیان ہوا تھا۔

ایس آئی آر کا بنیادی مقصد جائے پیدائش کی جانچ کے ذریعے غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کو ووٹر فہرستوں سے باہر کرنا ہے۔ بنگلہ دیش اور میانمار سمیت مختلف ممالک سے آئے غیر قانونی افراد کے خلاف کارروائی کے تناظر میں اس عمل کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس پورے عمل کے دوران کچھ مقامات پر سماجی بے چینی بھی سامنے آئی ہے، جن میں مغربی بنگال کے پرولیا ضلع کا ایک واقعہ شامل ہے، جہاں ایک بزرگ کی خودکشی کو اہل خانہ نے ایس آئی آر سے جڑے خوف سے جوڑا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔