ایس آئی آر: ’20 سالہ آئینی اصلاح کو الیکشن کمیشن نظر انداز کر رہا‘، ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر کو لکھی پانچویں چٹھی
ممتا بنرجی کا دعویٰ ہے کہ 2002 کی ووٹر لسٹ کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا گیا، جس سے سنگین غلطیاں ہوئی ہیں۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) معاملہ پر لگاتار الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ ایک بار پھر انھوں نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے ہی 20 سالہ آئینی اصلاح کو نظر انداز کر رہا ہے، جس سے ووٹرس کو اپنی شناخت دوبارہ ثابت کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
اس تعلق سے ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے نام 12 جنوری کو ایک خط لکھا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس خط سے قبل بھی وزیر اعلیٰ نے چیف الیکشن کمشنر کو 4 خطوط لکھے تھے، یعنی اب انھوں نے پانچویں چٹھی لکھ کر اپنے اعتراضات سامنے رکھے ہے۔ تازہ خط میں انھوں نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کے عمل میں ہو رہی غلطیوں پر فکر کا اظہار کیا ہے۔
ممتا بنرجی کا دعویٰ ہے کہ 2002 کی ووٹر لسٹ کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا گیا، جس سے سنگین غلطیاں ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تکنیکی خامیوں کی وجہ سے اہل ووٹرس کو غلط طریقے سے ’خامی‘ والے زمرہ میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس سے عام لوگوں کو شدید پریشانی ہو رہی ہے۔
خط میں وزیر اعلیٰ نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے ہی پرانے طریقۂ کار کو نظر انداز کر رہا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ گزشتہ 2 دہائیوں میں جو اصلاح ہوئے تھے، انھیں درکنار کر ووٹرس کو پھر سے اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عمل کو منمانا اور آئین کے جذبات کے خلاف قرار دیا ہے۔ ممتا بنرجی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران جمع کیے گئے دستاویزات کی کوئی رسید نہیں دی جا رہی ہے۔ انھوں نے سماعت کے عمل کو بھی پوری طرح سے مشینی اور غیر حساس بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقۂ کار انسانی احساسات سے خالی ہے اور جمہوریت کی بنیاد کر کمزور کر رہا ہے۔