’متھرا میں شری کرشن جنم بھومی فی الحال وی ایچ پی کا ایجنڈہ نہیں‘

وی ایچ پی لیڈر آلوک کمار نے مہاتما گاندھی کے خلاف دیے گئے بیان پر اختلاف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی بابائے قوم ہیں اور ان کے بارے میں توہین آمیز بات کرنا کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔

متھرا عید گاہ، تصویر ٹوئٹر
متھرا عید گاہ، تصویر ٹوئٹر
user

یو این آئی

نئی دہلی: وشو ہندوپریشد (وی ایچ پی) کے بین الاقوامی کارگزار صدر آلوک کمار کا واضح طور پر کہنا ہے کہ متھرا میں شری کرشن جنم بھومی (جائے پیدائش) فی الحال ان کے ایجنڈے میں نہیں ہے اور ابھی تمام توجہ ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر کی تعمیر پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ سال 2024 سے پہلے وہاں عظیم الشان مندر میں رام للا کا درشن کیا جا سکے گا۔

ملک میں اس وقت ہندو، ہندوتوا اور دھرم سنسد کے حوالے سے جاری بحث پر آلوک کمار نے کہا کہ ’’اسّی کی دہائی میں ہم نے دھرم سنسد کا انعقاد کیا، جس میں ملک بھر سے سادھو-سنتوں نے شرکت کی۔ اس کے بعد بھی اس طرح کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ کچھ لوگوں یا سنتوں اور سنتوں کے اجتماع کو دھرم سنسد نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے باوجود ہم کسی بھی واقعہ میں کسی مذہب، فرقہ یا سماج کے خلاف کسی بیان کی حمایت نہیں کرتے۔ ہمارا یقین ہمیشہ ’سروے بھونتو سکھینا‘ میں رہا ہے‘‘۔


آلوک کمار نے یواین آئی سے خصوصی بات چیت کے دوران بابائے قوم مہاتما گاندھی کے خلاف دیے گئے بیان پر اختلاف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی بابائے قوم ہیں اور ان کے بارے میں توہین آمیز بات کرنا کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ کسی نے اس کی حمایت نہیں کی۔ ایسی تمام باتیں اور بیانات کے لیے ملک میں قانون ہے اور اسی کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

تبدیلی مذہب کے معاملے پر آلوک کمار کا خیال ہے کہ اس کے لیے قومی سطح پر قانون بنایا جانا چاہیے۔ ملک کی 11 ریاستوں میں تبدیلی مذہب سے متعلق قوانین موجود ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ لاء اینڈ آرڈر ریاستوں کے ماتحت ہے تو پھر ایسا قانون قومی سطح پر کیسے بنایا جا سکتا ہے، آلوک کمار نے کہا کہ لالچ یا دباؤ سے تبدیلی مذہب جرم ہے اور اس مسئلے سے قومی سطح پر قانون بنا کر ہی نمٹا جا سکتا ہے۔


جب آلوک کمار سے یہ پوچھا گیا کہ اتر پردیش شیعہ بورڈ کے سابق صدر وسیم رضوی مذہب تبدیل کرنے کے بعد جتیندر تیاگی بن گئے، تب آپ یہ سوال کیوں نہیں کرتے۔ کسی ہندو مسلمان کے اسلام یا عیسائی بننے پر انہیں شک کیوں ہوتا ہے؟ آلوک کمار نے کہا کہ کسی کو ان سے متعلق شک ہو تو سوال کیا جا سکتا ہے۔ قانون کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہے۔ یہ کہے جانے پر راشٹریہ سویم سیوک کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت جب ہندو اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک بتاتے ہیں، بغیر مسلمانوں کے ہندوتوا ادھورا مانتے ہیں، تو پھر تبدیلی مہذب کے کیا معنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ دونوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔ آبا و اجداد ایک ہی ہیں، لیکن لالچ اور ڈرا کر یا دھوکہ دہی سے مذہب تبدیل کرانے کے وہ خلاف ہیں۔

یہ سوال اٹھائے جانے پر کہ اتر پردیش حکومت نے تبدیلی مذہب کے خلاف سخت قانون ایک سال قبل بنایا تھا اور اس کے تحت تقریباً دو سو مقدمات درج ہوئے، لیکن بہت کم لوگوں کو سزا دی گئی۔ یعنی سب کچھ صرف سیاسی منشا کے تحت ہوتا ہے، آلوک کمار نے کہا ’’معاملہ منشا کا نہیں ہے، ہندو لڑکیوں کو دھوکہ دے کر شادی کرنا یا پھنسانا کسی بھی طرح مناسب نہیں کہا جا سکتا‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔