کیا مسجدوں کو اصلاحی و فلاحی کاموں کے لئے استعمال کیا جائے؟

ملک کی مساجد کو مسجد اسحاق، مسجد رحمت عالم اور سبز مسجد جیسے ذمہ داران کی ضرورت ہے جو اپنی کوششوں سے قوم کی بھلائی کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں بھی اہم کردار نبھا رہے ہیں۔

By تنویر احمد

حیدرآباد کی ایک مسجد کی ان دنوں بہت تعریف ہو رہی ہے۔ نام ہے مسجد اسحاق۔ تعریف کی وجہ مسجد میں ہیلتھ سنٹر کا کھولا جانا ہے جہاں بلا تفریق مذہب و ملت سبھی کا علاج کیا جا رہا ہے۔ 9 سلم ایریا کے بیچوں بیچ کھولے گئے اس ہیلتھ سنٹر سے وہاں کی تقریباً ڈیڑھ لاکھ آبادی مستفید ہو رہی ہے اور 'ہیلپنگ ہینڈ فاونڈیشن' کے ذریعہ قائم کیے گئے اس اسپتال میں غریبوں کے لیے کئی طرح کی سہولیات ہیں۔ مسجد میں ہیلتھ سنٹر کھولے جانے کے تعلق سے بتایا جا رہا ہے کہ این جی او 'ہیلپنگ ہینڈ فاونڈیشن' علاقے میں میڈیکل کیمپ لگانا چاہتی تھی لیکن اسے کوئی مناسب جگہ نہیں مل رہی تھی۔مسجد اسحاق کے ذمہ داران کو جب یہ پتہ چلا تو انھوں نے مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا تاکہ غریب اور پسماندہ اس علاقے کو صحت سہولیات نصیب ہو سکے۔ اب یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کیا مسجدوں کا اس طرح بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، کیا مسجد میں ہیلتھ سنٹر قائم کرنا ٹھیک ہے، یا پھر کیا مسجد میں غیر مسلموں کو داخل کیا جانا چاہیے؟ جب آپ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو ان سبھی سوالات کے جواب 'ہاں' کی شکل میں ملیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
مسجد اسحاق میں موجود ہیلتھ سنٹر اور علاج کرانے پہنچے مریض

حقیقت تو یہ ہے کہ اسلامی دور کے شروع میں مساجد ہر طرح کی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ ان میں اجتماع بھی ہوتے تھے، مسافر کے ٹھہرنے کا انتظام بھی ہوتا تھا، اصلاح معاشرہ کے کام کیے جاتے تھے اور درسگاہ یعنی اسکول بھی چلتے تھے۔ ابن خلدون نے تو اس کے تعلق سے یہ لکھا بھی ہے کہ اسلامی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پہلی تین صدیوں میں مسجد ہی وہ درسگاہ تھی جہاں تمام علوم و فنون پڑھائے جاتے تھے اور سب سے پہلا درسگاہ 'اصحابِ صفہ' کے نام سے مسجد نبوی میں قائم ہوئی تھی۔ لیکن آج جب مسجد کی بات ہوتی ہے تو نماز اور مدرسہ سےبات آگے نہیں بڑھ پاتی۔یہ صورت حال یوروپ و امریکہ میں نہیں ہے، ایشیائی ممالک میں ہی مسجد کو صرف نماز ادا کرنے اور دینی تربیت دینے کی جگہ تصور کیا جاتا ہے۔

یوروپ و امریکہ میں کئی ایسی مساجد ہیں جہاں مختلف طرح کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مسجدوں میں کہیں لائبریری مل جائے گی تو کہیں اسکول چلتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے، کہیں ثقافتی پروگرام کا انعقاد معمول کی بات ہے تو کہیں مسلمان بچوں و بڑوں کو ان کی شناخت، ثقافت، مذہب اور روایات زندہ رکھنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یوروپ کی کچھ مساجد میں تو باضابطہ ضعیف لوگوں کے رہنے تک کا انتظام کیا گیا ہے کیونکہ وہاں بچے اپنے بوڑھے ماں باپ کو 'اولڈ ایج ہوم' میں بھجوا دیتے ہیں۔ گویا کہ مسجد بڑھاپے میں بے سہارا لوگوں کے لیے پناہ گاہ کا درجہ رکھتی ہے اور مسجد کے ذمہ داران کی دیکھ بھال کا فرض بھی ادا کر رہے ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں بھی اب ماحول بدل رہا ہے۔ اس کی مثال مسجد اسحاق ہی نہیں، کئی اور مساجد بھی ہیں جن کے بارے میں شاید کم ہی لوگوں کو پتہ ہے۔

کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ مسجدوں میں غیر مسلموں کا داخل ہونا مناسب نہیں، لیکن یہ خیال غلط ہے۔ حیدر آباد کی ہی ایک مسجد ہے ’مسجد رحمت عالم‘۔ اس نے کچھ ہی مہینے پہلے مختلف مذاہب کے درمیان فرقہ وارانہ خیر سگالی، امن اور بھائی چارہ کو فروغ دینے کے مقصد سے ’میری مسجد میں آئیے‘ پروگرام شروع کیا۔ اس پروگرام کے تحت ہندو، سکھ اور عیسائی سمیت ہر مذہب کے لوگوں کو مدعو کیا گیا تاکہ وہ دیکھیں کہ مسجد میں کس طرح کی سرگرمیاں ہو رہی ہیں، اور وہ اپنے من میں اٹھ رہے سوال بھی پوچھیں۔ اس پروگرام کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور کئی غیر مسلم لوگوں کی رائے بھی سامنے آئی۔ اس سے بہت سی غلط فہمیاں بھی دور ہوئیں جو مسجد کے تعلق سے لوگوں کے ذہن میں تھیں۔ لیکن مسجد رحمت عالم میں شروع ہوئے اس پروگرام کو ملک کے ہر مساجد میں شروع ہونا چاہیے۔ جب تک غیر مسلم حضرات کے لیے مسجدوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، ان کی غلط فہمیاں قائم رہیں گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
مسجد رحمت عالم (حیدر آباد) میں ’میری مسجد میں آئیے‘ پروگرام کا بینر

پرانی دہلی میں بھی ایک مسجد ہے جو ملک میں اپنی مثال آپ ہے۔ چاوڑی بازار میں کٹرا دینا بیگ واقع سبز مسجد انتہائی خاموشی کے ساتھ خدمت خلق کر رہی ہے۔ یہاں مسجد کے بیسمنٹ میں دینی و اصلاحی مجالس کرائے جانے کے ساتھ ساتھ کوچنگ کلاسز، سلائی سنٹر، مہدی کلاسز، لینگویج کلاسز، کمپیوٹر ایجوکیشن وغیرہ کا اہتمام ہو رہا ہے۔ یہ سرگرمیاں 'گرین ایجوکیشن ٹرسٹ' کے بینر تلے ہو رہی ہیں جس کی بنیاد سبز مسجد کے ذمہ داران نے ہی رکھی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کلاسز سے کچھ ہندو بچوں نے بھی استفادہ کیا ہے۔ گویا کہ مسجد کے دروازے ہر مذہب کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ قابل تعریف یہ بھی ہے کہ بہت سارے کورسز بالکل مفت ہیں اور جن کورسز کے لیے پیسے لیے جاتے ہیں وہ فیس بھی برائے نام ہے۔ گرین ایجوکیشن ٹرسٹ کے تحت ہو رہی ان سرگرمیوں کا انتظام و انصرام فاطمہ اکیڈمی نامی تنظیم دیکھ رہی ہے جو علاقے کے بچوں میں تعلیم پھیلانے کے لیے سالوں سے متحرک ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
چاؤڑی بازار واقع سبز مسجد (بائیں) اور اس کے بیسمنٹ میں تعلیم حاصل کرتی بچیاں

ان دو چار مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم مسجدوں کا بہتر استعمال کرنا چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کئی مساجد ایسی ہیں جہاں جگہ کی کوئی کمی نہیں لیکن بے کار پڑی ہوئی ہیں۔ ان کا مثبت استعمال ہونا چاہیے۔ ملک کی مساجد کو مسجد اسحاق، مسجد رحمت عالم اور سبز مسجد جیسے ذمہ داران کی ضرورت ہے جو اپنی کوششوں سے نہ صرف اپنے قوم کی بھلائی کر رہے ہیں بلکہ ملک کی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں بھی اہم کردار نبھا رہے ہیں۔