کورونا: چین پر اموات کی تعداد چھپانے کا الزام، نظرثانی شدہ اعداد و شمار جاری 

چین نے کہا تھا کہ ووہان میں 2579 مریض کورونا کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے لیکن اب ووہان شہر کے حوالہ سے نظر ثانی شدہ اعداد و شمار جاری کردیئے گئے ہیں، جس کے مطابق شہر میں مزید 1290 افراد لقمہ اجل بنے تھے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ووہان: چین نے ووہان شہر میں کورونا وائرس سے ہوئی اموات کے اعداد کو اچانک 50 فیصد بڑھا کر ظاہر کیا ہے۔ چین کی طرف سے ظاہر کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ووہان میں کورونا کے انفیکشن سے 3869 افراد کی موت ہوئی، تاہم نظر ثانی شدہ اعداد کے مطابق یہاں مزید 1290 افراد کی موت کورونا کی وجہ سے ہوئی ہے۔ چین پر اب بھی مریضوں کی اموات کو چھپانے کا الزام عائد ہو رہا ہے۔

چین میں کورونا وائرس (كووڈ -19) کے اصل مرکز رہے ووہان نے جمعہ کے روز متاثرین اور اموات کے نظر ثانی شدہ اعداد و شمار جاری کئے۔ چین کی خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے بتایا کہ چین کے ووہان میں جاری نظر ثانی شدہ اعدادوشمار کے مطابق 16 اپریل کے اواخر تک کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 325 بڑھ کر 50،333 ہو گئی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 1290 بڑھ کر 3869 ہو گئی ہے۔


کووڈ- 19 ایپیڈمک پریونشن اینڈ کنٹرول نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ اعداد و شمار میں ترمیم متعلقہ ضابطوں ،قانون اور تاریخ، لوگوں اور ہلاک شدگان کے لئے ذمہ دار ہونے کے اصولوں کے تحت کی گئی ہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس سے اس بات کا یقین ہوا ہے کہ کورونا کے تعلق سے معلومات شفاف اور عداد شمار درست ہیں ۔

عداد و شمار کی بے ضابطگیوں کی چار وجوہات ، جنہیں نوٹیفکیشن میں درج کیا گیا۔ کورونا کے ابتدائی دنوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے طبی وسائل اور طبی اداروں کی صلاحیت کو متاثر کیا ۔ اسپتالوں میں علاج نہ ملنے کی وجہ سے کچھ مریضوں نے گھر پر ہی دم توڑ دیا۔ مریضوں کے علاج کے دوران اسپتال اپنی صلاحیتوں سے بہت زیادہ کام کر رہے تھے اور مریضوں کو بچانے اور علاج کرنے کے لئے طبی عملے کو پہلے تیار کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں تاخیر سے، غلط اور گمراہ کن رپورٹنگ ہوئی۔


کورونا کے مریضوں کے علاج کے لئے صو بہ ہوبئی کے ووہان شہر کے اضلاع میں وزارت کے ماتحت نشان زد کئے گئے ا سپتالوں کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے کچھ اسپتال وبا کے معلومات کے نیٹ ورک سے نہیں جڑ سکے اور وقت رہتے عداد و شمار کی اطلاع فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ ان میں کمپنیوں، پرائیویٹ اسپتال اور کچھ دیگر طبی ادارے بھی شامل ہیں ۔ ہلاک شدگان میں سے کچھ کی رجسٹرڈ معلومات ادھوری تھی اور رپورٹنگ میں تکرار اور غلطیاں تھیں۔

ہیڈ کوارٹر کے ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ وبا سے متعلق بڑے اعداد و شمار اور وبا سے متعلق جانچ کے لئے ایک گروپ کو مارچ کے اواخر میں تشکیل دیا تھا ۔ افسروں نے کہا کہ گروپ نے آن لائن سسٹم سے معلومات حاصل کی اور وبا سے منسلک تمام لو کیشنوں سے مکمل معلومات اکٹھا کی تاکہ ہر معاملے سے منسلک حقائق صحیح اور اعداد و شمار درست ہو ں ۔افسر نے کہا’’ وبا کے اعداد و شمار کے پیچھے عام لوگوں کی زندگی اور صحت سے متعلق معلومات کے ساتھ ہی حکومت کا اعتماد بھی منسلک ہوتا ہے ‘‘ ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔