ریسلنگ فیڈریشن چیف برج بھوشن کو لگا ’زوردار پنچ‘، کئی کھلاڑیوں نے نیشنل چمپئن شپ کا کیا بائیکاٹ

کشتی کھلاڑیوں کی ریسلنگ فیڈریشن چیف برج بھوشن کے ساتھ لڑائی طویل کھنچتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ وزیر کھیل کے ساتھ کھلاڑیوں کی میٹنگ بے نتیجہ ثابت ہوئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

user

قومی آوازبیورو

ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف کئی میڈل یافتہ پہلوانوں کے مظاہرہ کے بعد اب کئی دیگر کھلاڑیوں نے بھی محاذ کھول دیا ہے۔ گونڈا کے نندنی نگر واقع کشتی اسٹیڈیم میں منعقد نیشنل چمپئن شپ کھیلنے آئے ہریانہ اور ہماچل پردیش کے نصف درجن سے زیادہ کھلاڑی بغیر میچ کھیلے ہی واپس لوٹ گئے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ دہلی کے جنتر منتر پر بیٹھے کھلاڑیوں کی حمایت میں بغیر میچ کھیلے واپس جا رہے ہیں۔

دوسری طرف دہلی میں جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھے بین الاقوامی پہلوانوں کی حمایت میں ہریانہ کی کھاپ پنچایتیں بھی اتر گئی ہیں۔ پھوگاٹ کھاپ نے پہلوانوں کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعرات کو پھوگاٹ کھاپ کی اپیل پر سبھی ذات کی پنچایت ہوئی تھی۔ پھوگاٹ کھاپ کے پردھان بلونت نمبردار نے بتایا کہ چرکھی دادری ضلع کے سوامی دیال دھان پر ہوئی اس پنچایت میں کھلاڑیوں کی حمایت میں کئی فیصلے لیے گئے۔ ساتھ ہی کشتی فیڈریشن کے چیف کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ہریانہ کے پہلوانوں کی حمایت میں دھنکھڑ کھاپ بھی سامنے آ گئی ہے۔ جمعہ کو چرکھی دادری سے درہلی کے لیے چلے پھوگاٹ کھاپ کے لوگوں کا جھجر میں دھنکھڑ کھاپ نے استقبال کیا۔


گونڈا سے بغیر میچ کھیلے ہی واپس جا رہے ہریانہ اور ہماچل پردیش کے نصف درجن سے زیادہ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خواہش سے میچ نہیں کھیل رہے ہیں اور دہلی کے جنتر منتر پر بیٹھے بھائی بہنوں کی حمایت میں بغیر کھیلے واپس جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم پہلے جنتر منتر جائیں گے، اس کے بعد گھر چلے جائیں گے۔ کھلاڑیوں نے کہا کہ ان کا حوصلہ پست ہو چکا ہے اور یہاں کے انتظامات بھی قومی سطح کے مقابلوں کی طرح نہیں ہے۔ ان کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے سینئرس کے ساتھ کھڑان ہونا ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر یہاں نہیں رہیں گے۔

کھلاڑیوں نے بتایا کہ گونڈا میں ہونے والی نیشنل چمپئن شپ میں سب سے زیادہ کھلاڑی ہریانہ سے آتے ہیں، لیکن اس بار کشتی فیڈریشن چیف پر جس طرح سے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، اس کو لے کر کھلاڑی اس مقابلے میں حصہ نہیں لینا چاہتے۔ پہلے ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش کے تقریباً 5000 کھلاڑی اس مقابلے میں آتے تھے، لیکن اس بار صرف 1200 کھلاڑی پہنچے ہیں اور ان میں سے بھی کئی واپس جا رہے ہیں۔


واضح رہے کہ گونڈا کے نندنی نگر میں ہفتہ سے نیشنل چمپئن شپ مقابلہ کا انعقاد ہو رہا ہے۔ اس نیشنل چمپئن شپ میں حصہ لینے کے لیے مہاراشٹر، ہریانہ، ہماچل پردیش، پنجاب، مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں کے کھلاڑی پہنچے ہیں۔ جمعہ کو ریسلنگ فیڈریشن کے چیف اور رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ ان کھلاڑیوں سے ملنے پہنچے تھے۔ اس دوران برج بھوشن سنگھ نے نیشنل چمپئن شپ مقابلہ کی تیاری کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ کئی اتھلیٹ ان کے ساتھ ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی کے جنتر منتر پر آج بھی کھلاڑیوں کا مظاہرہ جاری ہے۔ صبح ہوتے ہی آج بھی جنتر منتر پر کھلاڑیوں کی بھیڑ ہونے لگی۔ لگ رہا ہے کہ کشتی کھلاڑیوں کی یہ لڑائی طویل کھنچنے والی ہے، کیونکہ کل نصف رات تک مرکزی وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر کے ساتھ ہوئی کھلاڑیوں کی میٹنگ سے بھی برف نہیں پگھل پائی ہے۔ ریسلنگ فیڈریشن چیف برج بھوشن شرن سنگھ اب بھی استعفیٰ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ انھوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے اور صاف کہہ رہے ہیں کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */