جموں و کشمیر: عصمت دری معاملہ میں کانگریس کا زبردست احتجاج، ایس ایچ او معطل

گزشتہ ہفتہ کٹھوعہ کی 8 سالہ کمسن بچی آصفہ کے مبینہ عصمت دری اور قتل معاملے میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے سخت احتجاج اور دباؤ کے بعد ریاستی حکومت نے اسٹیشن ہاؤس افسر کو معطل کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جموں: جموں وکشمیر حکومت نے ضلع کٹھوعہ میں خانہ بدوش گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور مبینہ عصمت ریزی کے واقعہ کے سلسلے میں ہفتہ کو اسٹیشن ہاوس آفیسر (ایس ایچ او) ہیرا نگر کو معطل کردیا۔ حکومت نے یہ اقدام قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے شدید احتجاج کے بعد اٹھایا۔ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرا نگر میں گزشتہ ہفتے ایک آٹھ سالہ کمسن بچی کو اغوا کیا گیا اور اس کی لاش بدھ کے روز ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی۔

قتل کے اس واقعہ کے خلاف مقتولہ بچی کے کنبے اور رشتہ داروں نے اپنا شدید احتجاج درج کیا تھاجبکہ اپوزیشن نے اسمبلی میں اپنا احتجاج ہفتہ کو تیسرے دن بھی جاری رکھا۔ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ سے کانگریسی ممبر اسمبلی عثمان مجید نے ہفتہ کو کٹھوعہ کی کمسن بچی کا معاملہ اسمبلی میں اٹھاتے ہوئے کہا ’اسے (کمسن آصفہ) کو ایک گاؤ خانے میں بند رکھا گیا تھا جہاں اس کی عصمت ریزی کی گئی‘۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے قتل اور عصمت ریزی کے اس افسوسناک واقعہ میں ایک 15 سالہ لڑکے کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ’ایک کم عمر لڑکا یہ جرم اکیلے انجام نہیں دے سکتا۔ وہ لڑکی کو کیسے سات دنوں تک غیرقانونی تحویل میں رکھ سکتا تھا؟‘۔

عثمان مجید کا کہنا تھا کہ پولیس اصل مجرموں کو بچانے کی کوششیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا ’ایس ایچ او اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو فوری طور پر معطل کیاجانا چاہیے تھا‘۔ انہوں نے کہا ’دراصل پولیس معاملے کو دفن کرنا چاہتی ہے‘۔ اس دوران کانگریسی اور نیشنل کانفرنس کے دوسرے ممبران بھی عثمان مجید کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور حکومت مخالف نعرے بازی شروع کردی۔

ممبر اسمبلی کٹھوعہ راجیو جسروٹیہ نے کہا ’ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں لیکن آپ اس واقعہ کو کیونکر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں‘۔ بی جے پی ایم ایل اے کے ان ریمارکس سے اپوزیشن کے سبھی اراکین اشتعال میں آگئے اور ’قاتل کو پھانسی دو، لاڈلی بیٹی کو انصاف دو، کرمنل سرکار ہائے ہائے‘ کے نعرے بلند کئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
کمسن بچی آصفہ جس کی مبینہ طور پر عصمت دری کی گئی اور قتل کر کے پھینک دیا گیا

قانون و پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے حکومت کی طرف سے ایوان کو بتایا ’ہم نے پہلے ہی واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے ہیں۔ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے‘۔

نیشنل کانفرنس ممبر اسمبلی علی محمد ساگر نے کہا کہ اگر حکومت نے ایس او ایچ کو فوری طور پر معطل کیا ہوتا تو محکمہ (پولیس) کو ایک واضح پیغام جاتا۔ انہوں نے کہا ’ہم کاروائی عمل میں لانے تک ایوان کی کاروائی کو نہیں چلنے دیں گے‘۔ اس پر ویری نے کہا کہ ایس ایچ او کو معطل کیا گیا ہے۔

مسٹر ویری نے کہا ’ہم نے معاملے کی انکوائری مکمل ہونے تک ایس ایچ او ہیرا نگر کو معطل کرنے کا حکم جاری کردیا ہے‘۔ اس دوران عثمان مجید نے اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم تین دنوں سے اس معاملے پر احتجاج کررہے ہیں۔ اس معصوم بچی کو انصاف ملنا چاہیے۔ اسے بے رحمی سے ہلاک کیا گیا ہے۔ اس کی عصمت لوٹی گئی ہے۔ اس کو شدید قسم کے تشد دکا نشانہ بنایا گیا ہے‘۔

انہوں نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا’ اس معاملے پر سبھی کو افسوس ہونا چاہیے تھا۔ لیکن حکومت تین دنوں سے کوئی معقول جواب نہیں دے رہی تھی۔ یہ لڑکی گاؤں کے اندر سات دن بند رکھی گئی۔ اس کا گاؤں میں ہی واقع ایک گاؤ خانے میں ریپ اور قتل ہوا ہے۔ ہمارا حکومت سے یہ سوال تھا کہ اگر یہ لڑکی اپنے ہی گاؤں میں سات دن بند رکھی گئی تو پولیس نے وہاں کا دورہ کیوں نہیں کیا۔

پولیس نے وہاں جاکر یہ پوچھ گچھ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی‘۔ عثمان مجید نے کہا’ سات دن بعد اس کی لاش کو تین کلو میٹر دور پھینکا گیا۔ یہ کام اکیلے ایک 14 برس کا لڑکا نہیں کرسکتا ہے۔ ہم نے کہا کہ اس میں ایک بڑی سازش ہے اور بااثر لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ یہ ہماری ریاست کی بیٹی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’حکومت نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایس ایچ او کو معطل کیا ہے‘۔ کمسن بچی کے قتل کے اس واقعہ کے حوالے سے جموں وکشمیر پولیس نے 18 جنوری کو اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا تھا ’کمسن بچی کے قتل کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے ڈپٹی ایس پی کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس تھانہ ہیرا نگر (کٹھوعہ) میں ایک ایف آئی آر پہلے ہی درج کی جاچکی ہے‘۔

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا ’کٹھوعہ میں معصوم بچی آصفہ بانوکے ساتھ پیش آئے دل سوز اور وحشیانہ واقعہ کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ ہماری سرکاری اس واقعہ کی تیزی سے تحقیقات کرکے ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے گی‘۔

عبدالرحمان ویری نے قانون ساز اسمبلی میں کہا تھا کہ واقعہ کی انکوائری شروع کی گئی ہے اور ملوثین کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ تعمیر ات عامہ کے وزیر نعیم اختر نے 19 جنوری کو قانون ساز کونسل میں جانکاری دی کہ کمسن لڑکی کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات کرنے کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

وزیر نے کہا’ حکومت نے مجسٹریل تحقیقات کے احکامات دیے ہیں تاکہ قصور واروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے‘ ۔انہوں نے اس واقعہ بہیمانہ اور انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایوان متفق رائے سے اس واقعہ کی مذمت کرتا ہے ۔ عبدالرحمان ویری نے 19 جنوری کو قانون ساز اسمبلی میں کمسن لڑکی کے قاتل کو ضلع کٹھوعہ کے ہیرا نگر علاقہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ قصور وار نے جرم قبول کیا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ایس ڈی پی او بوڈر چڑوال کی رہنمائی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے پتہ لگایا کہ قصور وار نے معصوم لڑکی کو اغوا کر کے رسانہ گاؤں کے ایک گاؤ خانہ میں رکھا جہاں اُس نے اس لڑکی کی عصمت دری کرنے کی کوشش کی جسے اس لڑکی نے ناکام بنادیا۔

قصور وار نے لڑکی کو گلاگھونٹ کر ہلاک کر دیا۔انہوں نے کہا کہ قصور گرفتار کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔ بعد میں لاش کو پوسٹ ماٹم کے لئے ڈسٹرکٹ ہسپتال کٹھوعہ منتقل کیا گیا اور پوسٹ ماٹم کے بعد اسے آخری رسومات کے لئے گھروالوں کے حوالے کیا گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔