شیو سینا کو مودی کا ہندوتوا قبول نہیں، گائے محفوظ اور خواتین غیر محفوظ
شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو مودی کا ہندوتوا قبول نہیں، جس میں گائے کی حفاظت کی بات توہو لیکن خواتین کی حفاظت پر نہیں۔

شیو سینا اور بی جے پی کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور اس کا اندازہ اب ادھو ٹھاکرے کے اس تازہ بیان سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آج کے ہندوتوا میں گائے کی حفاظت کے بارے میں تو بات ہو رہی ہےلیکن خواتین غیر محفوظ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نریندر مودی کے اقتدار کے خوابوں کے لئے نہیں بلکہ عام آدمی کے خوابوں کے لئے لڑ رہا ہوں ۔
پارٹی کے ترجما ن ’سامنا ‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’میں گزشتہ تین چار سال سے ملک میں چل رہے ہندوتوا کو قبول نہیں کرتا ہوں۔ ہندوتوا کا یہ ہمارا نظریہ نہیں ہے ۔ ہماری خواتین آج محفوظ نہیں ہیں اور آپ گائے کی حفاظت کی بات کر رہے ہیں ‘‘۔ ٹھاکرے نے کہا ’’آپ لوگوں کو ان کے کھانے کی ترجیحات کے لئے نشانہ نہیں بنا سکتے‘‘۔
ٹھاکرے نے مزید کہا ’’واہ واہ کرنے والوں اور تعریف کرنے والوں کو میں دوست نہیں مانتا ۔ حکومت میں حصہ داری ہونے کے بعد بھی ملک کے عوام کے لئے اگر کچھ غلط ہو رہا ہے تو میرا فرض ہے کہ پوری طاقت کے ساتھ میں وہ کروں جو میں صحیح سمجھتا ہوں اور وہ میں کروں گا‘‘۔
حکومت کے خلاف عدم اعتماد تحریک کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ جب لوک سبھا میں اس پر بحث جاری تھی تو میں اطمینان سے آپ سے گفتگو کر رہا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اطمینان تھا کہ جو مدے شیو سینا گزشتہ تین سالوں سے اٹھا رہی ہے وہ مدے اب دوسرے لوگ بھی اٹھا رہے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا ’’حکومت کو ووٹنگ کرنا ہوتی تو اتنے دنوں سے ہم حکومت کے فیصلوں پر حملہ کیوں بولتے؟‘‘
اُدھو ٹھاکرے کے بیان کے بعد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں شیو سینا کی تعریف کی گئی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ شیو سینا بی جے پی کے مقابلے زیادہ بہتر اور مناسب باتیں کر رہی ہے۔
واضح رہے عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹنگ کے دوران شیو سینا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 23 Jul 2018, 1:52 PM