شیوسینا نے کئی باغی اراکین اسمبلی سے کیا رابطہ، میل-ملاپ کی کوششیں تیز

شیوسینا کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ’’باغیوں کی تعداد بس اتنی ہے کہ بچنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں، لیکن ہم انھیں بات چیت کے ذریعہ سمجھا رہے ہیں اور لگاتار گفت و شنید ہو رہی ہے۔‘‘

ادھو ٹھاکرے، تصویر آئی اے این ایس
ادھو ٹھاکرے، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے ممبئی واقع وزیر اعلیٰ رہائش خالی کر ماتوشری میں منتقل ہونے کے بعد شیوسینا اب کئی باغی اراکین اسمبلی کے ساتھ سیدھی بات چیت کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق کئی کے ساتھ سفیروں کے ذریعہ بھی بات کی جا رہی ہے۔ حالانکہ بات چیت فی الحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔

شیوسینا کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ’’باغیوں کی تعداد بس اتنی ہے کہ بچنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں، لیکن ہم انھیں بات چیت کے ذریعہ سمجھا رہے ہیں اور لگاتار گفت و شنید ہو رہی ہے۔‘‘ شیوسینا لیڈر نے کہا کہ واحد امید یہ ہے کہ پارٹی کو لگتا ہے کہ کئی اراکین اسمبلی انتخاب میں نہیں جانا چاہتے ہیں، اور اگر وہ پارٹی لائن کی خلاف ورزی کریں گے تو انھیں پھر سے انتخاب لڑنا ہوگا۔ نصف اراکین اسمبلی لوٹے تو حکومت بچ سکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ شیوسینا کے باغیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ٹھیک نہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی شندے سے ایسا کرنے کی امید نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ اعلیٰ قیادت کے ایک بھروسہ مند شخص تھے۔


اس سے قبل مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بدھ کی دیر رات مالابار ہل واقع اپنی سرکاری رہائش کو خالی کر دیا اور اپنے کنبہ کے ساتھ باندرہ واقع ذاتی گھر ’ماتو شری‘ لوٹ گئے۔ یہ قدم ایکناتھ شندے کی قیادت والے شیوسینا اراکین اسمبلی کے باغی گروپ سے ان کی جذباتی اپیل کے کچھ گھنٹوں بعد اٹھایا گیا جس میں انھوں نے وزیر اعلیٰ اور پارٹی صدر دونوں عہدہ چھوڑنے کی بات کہی، بشرطیکہ باغی اراکین اسمبلی ان سے ملاقات کر ایسا کرنے کو کہیں۔

وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے (جو بدھ کی صبح کووڈ-19 پازیٹو پائے گئے تھے) نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے اپنا استعفیٰ نامہ تیار کر رکھا ہے اور کوئی بھی باغی اراکین اسمبلی جا سکتا ہے اور اسے گورنر کو سونپ سکتا ہے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ادھو ٹھاکرے اپنے کنبہ سمیت وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ چھوڑ کر اپنے ذاتی گھر میں منتقل ہو گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔