شیلا دیکشت نے 20 سال بعد پھر سنبھالی دہلی کانگریس کی کمان، کارکنان پُرجوش

شیلا دیکشت نے پُرجوش کارکنان کی موجودگی میں 20 سال بعد پھر سے دہلی کانگریس کی کمان سنبھال لی ہے۔ اس موقع ہر پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے انہیں مستقبل کے چیلنجوں کے تئیں آگاہ بھی کیا۔

تصویر قومی آواز/وپن
تصویر قومی آواز/وپن
user

سید خرم رضا

’’شیلا دیکشت دہلی کے لئے شُبھ ہیں کیونکہ دہلی کے لوگ اور ماحول دونوں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔‘‘ کانگریس کے سینئر رہنما جناردن دیویدی نے یہ بات شیلا دیکشت کے کانگریس کی کمان سنبھالنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے کہی۔ کارکنان کے جوش کے درمیان بدھ کے روز شیلا دیکشت نے 20 سالوں کے بعد ایک مرتبہ پھر دہلی کے دین دیال اپادھیائے روڈ پر واقع راجیو بھون میں دہلی پردیش کانگریس کے صدر کا عہدہ سنبھالا۔

شیلا دیکشت کے دہلی کانگریس کا صدارتی عہدہ سنبھالنے کے موقع پر کارکنان کے ایک بڑے جم غفیر کی وجہ سے دہلی کانگریس کے دفتر پر جانے والے دین دیال اپادھیائے روڑ پر آئی ٹی او چوراہے تک لمبا جام لگ گیا تھا۔ تمام کارکنان بے صبری سے ان کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس رہنما ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ ’’دہلی ملک کا دل ہے اور دل کا اثر پورے بدن پر ہوتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ شیلا دیکشت نے اس عمر میں بھی یہ چیلنج قبول کیا ہے۔ میں نے دہلی میں گزارے اپنے 50 سال میں اتنی ترقی کبھی نہیں دیکھی جتنی ترقی شیلا نے اپنے 15 سال کی مدت کار میں دہلی کی تھی۔‘‘

بابو کنور سنگھ کا قصہ سناتے ہوئے ملک کی پہلی خاتون اسپیکر رہیں میرا کمار نے کہا، ’’انہوں نے (بابو کنور سنگھ) انگریزوں کے خلاف تلوار اٹھائی تھی، کیونکہ وہ نہایت ہی خراب وقت تھا۔ آج بھی وقت بہتر نہیں ہے، دہلی سے لے کر مرکز تک اقتدار میں بیٹھے لوگ ملک کو متحد نہیں رکھ پا رہے ہیں بلکہ تقسیم کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ملک کو ہماری (کانگریس) ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ آگے بڑھ کر ہر جگہ کامیابی کا پرچم لہرائیں۔

میرا کمار کے الفاظ کو آگے بڑھاتے ہوئے سینئر کانگریس رہنما جناردن دیویدی نے بھی کانگریسی کارکنان کو خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’چیلنج بڑا ہے اور بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے اور ایسی قوتوں سے لڑنے کے لئے سخت اور مضبوط ارادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

شیلا دیکشت نے 20 سال بعد پھر سنبھالی دہلی کانگریس کی کمان، کارکنان پُرجوش

اس موقع پر سابق دہلی کانگریس کے صدر اجے ماکن نے شیلا دیکشت حکومت کے وقت ہوئے ترقیاتی کاموں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری پہچان کانگریس کے نظریہ سے ہوتی ہے اور اسی نظریہ کے لئے ہمیں لڑنا ہے۔‘‘ اجے ماکن نے کہا کہ ’’شیلا دیکشت کی قیادت میں دہلی میں انقلابی تبدیلیاں آئیں، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے علاقوں میں منفرد کام ہوئے اور اب ہمیں ان کے ہاتھ مضبوط کرنے ہیں تاکہ ہم دہلی کی ساتوں لوک سبھا سیٹوں پر جیت حاصل سکیں اور راہل گاندھی کو ملک کا اگلا وزیر اعظم بنا سکیں۔‘‘

شیلا دیکشت نے سبھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’صرف آپ کی موجودگی ہی کافی نہیں ہے، ہمیں ٹوٹی ہوئی کانگریس کو پھر سے جوڑنا ہے۔‘‘ دہلی کانگریس کے انچارج پی سی چاکو نے کہا کہ اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہ ہونے کے باوجود کانگریس نے دہلی میں اپوزیشن کا اہم کردار ادا کیا ہے۔

شیلا دیکشت نے 20 سال بعد پھر سنبھالی دہلی کانگریس کی کمان، کارکنان پُرجوش

اس موقع پر سابق دہلی کانگریس کے صدر اجے ماکن نے رسمی طور پر کانگریس کارکنان کے سامنے شیلا دیکشت کے نام کی تجویش پیش کی اور دہلی کانگریس کی کمان انہیں سونپ دی۔ اجے ماکن نے دہلی کانگریس کی کمان شیلا دیکشت کو دیئے جانے کے لئے یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی اور کانگریس صدر راہل گاندھی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ کارکنان نے صوتی ووٹ سے شیلا دیکشت کو دہلی کانگریس کی کمان سونپے جانے کو منظوری دی۔

اس موقع پر دہلی کے سابق وزرا، نئے مقرر ہوئے تینوں کارگزار صدر ہارون یوسف، دیوندر یادو اور راجیش للوتیا کے علاوہ ضلع اور بلاک کانگریس صدر بھی موجود تھے۔ تقریب کی نظامت شرمشٹھا مکھرجی نے کی جبکہ دہلی کے سابق وزیر اور پانچ مرتبہ رکن اسمبلی رہے کارگزار صدر ہارون یوسف نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔

next